Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں
آنکھ کو آئنہ سمجھتے ہو
وہ دیکھتا ہے مجھ کو مگر بے حیا نہیں
لگ ہی نہیں رہا ہے
رسم آوارگی سوغات نہیں
اپنے ہونٹوں پہ ترا نام
اس طرح مجھ کو کسی
سب کو پاگل بنا رہی ہوں میں
دل کی حالت سنبھل گئی ہے اب
سب مجھے تیرا طلبگار
آپ بیتی کوئی سمجھے
میری خوشبو کو ہواؤں میں اڑانے والا
ساتھ دینے کا دلایا
میں جیسے تیسے کر کے
تم آؤ گے نمائش سامان دیکھ کر
وہ ہاتھ میرے ہاتھ سے
بدلتے موسم
دل کی بستی میں اجالا
اپنی حالت کا مجھے دھیان
کچھ تاریخی واقعات
راز کیا کیا ہیں مرے دل میں
حال کیا ہوگا منافق سے
یہ خوشی تھی کہ اس کا پیار
خود کو بیداد کر کے روئے گا
ایسے وہ جانے لگا مجھ کو
کسی سے دل لگانا چاہیئے تھا
ہر وسیلے کو زمانے سے
خود کو اتنا بھی طلب گار
اب کسی اور کا وہ
مدتوں کے بعد بھی درکار ہے
ٹوٹ کر گرتے ستاروں کی
عاشق ہزار ہوں مگر
دل میں پھر غم کی
یاد کر کے اسے بھلا دینا
تم کبھی آؤ شام سے پہلے
خوشیوں کا غریبوں کو
ہجرت
غرض کے رشتے ہیں
مری نگاہ میں قربت کی
قریۂ شب
آگ (نا مکمل مگر مکمل)
تمہارے ہاتھ پیلے ہو رہے ہیں
دل کے کونے میں کہیں
چڑ چڑانے کی بات کرتے ہو۔۔۔۔!!!
نعتِ رسولِ محتشم ﷺ
یا خدا! تجھ سے دعا ہے
نگاہیں خود پہ رکھتے ہو
بزمِ ہستی میں میرا بس
‘یار’ اونچان ہوا جاتا ہے
یوں اترانا بھی تیرا
تمہاری ڈائری میں وہ کلام
تجھ فتنہ گر سے عرض
سرِ شام
کیوں ہچکچا رہے ہیں
اب کہ ‘میں تم’ کو
رند مدہوش ہیں
اگر مجھ سے محبت ہے
یہ تو لازم نہیں
مرے سکوت کی شرحِ نوا
اپنے محور سے ہٹ رہا ہوں میں
جینے کا کوئی ہم کو
جس طرح سوچتا تھا میں
جو شجر دیتا تھا سایہ
تنقید کرتا ہوں
کتب : کہانی چل رہی ہے اور خوابشار
مظلوم کی جو شخص
اُسے معلوم ہے اُس کو پتہ ہے
پیار جو اک حسین سپنا تھا
رکھتی ہے ہتھیلی پہ
سانپ ہوں نا، اس لئے
<<
1
...
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
...
140
>>