Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
آئیے ذرا خود کو بھی ٹٹولیئے
آٹھواں سالانہ نعتیہ مشاعرہ
آنکھ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کوئی جھیل سمجھ
اتنے چاہت بھرے غصے سے لڑا کرتا تھا
بلا کا ضبط کیا، حوصلے سے چال چلی
خیال و خواب کے دفتر جگہ نہیں بنتی
جو دل سے اُکھڑی وہیں بعد میں رکھی گئی تھی
اُسے بھی ایسے ہی دل سے نکال پھینکا ہے
کبھی سنی ہے بھڑکتے الاؤ کی آواز ؟
کم فہم ہیں تو کم ہیں پریشانیوں میں ہم
آنکھ کھلتے ہی خواب یاد آیا
پُھولوں کی سازش
ہِلے ہوئے لوگ
ہوئی اک عُمر ترکِ التجا کو
<<
1
...
135
136
137
138
139
140
141
142
143
144
145
...
709
>>