Type your search query and hit enter:
سائٹ کا نقشہ
چور
راہبر کی نہ فکر منزل کی
سکون و صبر کا اُمید
دل اب اُس کو ہار رہا ہے
توڑ کے سحر یادِ گزشتہ
ترے بعد جو خلا ہے
جھلّی چلی گئی
مزدوری
اپنی طرف سے مجھ کو وہ برباد کر گیا
دل جس طرف بھی شوق سے
مسائل پر تحمل سے نہ گر یوں
ملنے کے آرہے ہیں اب لوٹ کر زمانے
سائل کو اس وجہ سے میسر نہیں ہے
ہزاروں راز پنہاں ہیں شعور خاک کے اندر
<<
1
...
132
133
134
135
136
137
138
139
140
141
142
...
709
>>