آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتاویس خالد

دل اب اُس کو ہار رہا ہے

ایک اردو غزل از اویس خالد

دل اب اُس کو ہار رہا ہے
خدشہ یہ ہر بار رہا ہے

اُس کے تاج و تخت کے پیچھے
میرا بھی کردار رہا ہے

جس کو خود تلوار تھمائی
وہ ہی اب لَلکار رہا ہے

تجھ پر جو بھی شعر کہا ہے
میرا وہ شاہکار رہا ہے

میں غربت کی بھیڑ میں گم تھا
وہ زَر کے اُس پار رہا ہے

بازی چاہے ہار گیا تھا
جیت کا وہ معیار رہا ہے

گُلشن کو مہکانے والا
واقف کارِ دار رہا ہے

منزل کے ہر گام پہ خالد
تُو مجھ کو درکار رہا ہے

اویس خالد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button