آپ کا سلاماردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریراکرم ثاقب

موبائل سے بڑھ کر کون

ایک مزاحیہ تحریر از اکرم ثاقب

آج کل کے نوجوان کے لیے موبائل فون محض ایک برقی آلہ نہیں بلکہ خاندان کا وہ اکلوتا فرد ہے جس کی تابعداری میں ذرہ برابر لغزش کفر کے برابر سمجھی جاتی ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ گھر میں ماں باپ، بہن بھائی اور دیگر خونی رشتے محض ‘سائیڈ ہیروز’ بن کر رہ گئے ہیں، جبکہ اصلی ‘ہیرو’ وہ پانچ انچ کی سکرین ہے جو ہر وقت ہاتھ میں تھمی رہتی ہے۔ اگر اتفاق سے کوئی بدنصیب باپ اپنے لختِ جگر کو یہ مشورہ دے دے کہ "بیٹا، ذرا فون رکھ کر روٹی کھا لو،” تو جواب میں ایسی تیکھی نظریں ملتی ہیں جیسے کسی نے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کر دی ہو۔ نوجوانوں کے نزدیک موبائل فون وہ ‘مقدس گائے’ ہے جس کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو وہ حقارت سے کاٹ ڈالنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
پتہ نہیں اس کالے شیشے کے پیچھے کون سی ایسی ‘سونے کی کان’ دریافت ہو گئی ہے جس نے ہماری نئی نسل کو ایک ایسی کھدائی پر لگا دیا ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ گھر کا دسترخوان ہو یا کسی عزیز کا جنازہ، نوجوان کی انگلیاں سکرین پر کسی ماہر سرجن کی طرح چل رہی ہوتی ہیں۔ اگر ماں کہے کہ "پتر، ذرا دہی تو لا دو،” تو اسے لگتا ہے کہ اس کی ‘ڈیجیٹل سلطنت’ پر کسی بیرونی دشمن نے حملہ کر دیا ہے۔ بھائی سے جھگڑا اس بات پر نہیں ہوتا کہ اس نے جائیداد پر قبضہ کر لیا، بلکہ سارا فساد اس وقت برپا ہوتا ہے جب وائی فائی (Wi-Fi) کے سگنل کم ہو جائیں یا چھوٹے بھائی نے غلطی سے چارجر کو ہاتھ لگا دیا ہو۔ اس وقت جو رزم و بزم برپا ہوتی ہے، اس کے سامنے پانی پت کی لڑائیاں بھی ہیچ نظر آتی ہیں۔
رہی سہی کسر ان بے چارے اساتذہ نے پوری کرنے کی کوشش کی ہے جو ابھی تک اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ بچوں کی اصلاح کر سکتے ہیں۔ استاد اگر کلاس میں فون چھین لے تو وہ ‘تعلیمی رہنما’ نہیں بلکہ ‘انسانی حقوق کا سب سے بڑا دشمن’ قرار پاتا ہے۔ نصیحت کرنے والا استاد اس نسل کی نظر میں وہ ‘ناسمجھ بوڑھا’ ہے جو ابھی تک پتھر کے زمانے میں جی رہا ہے اور جسے یہ معلوم ہی نہیں کہ زندگی ‘کتابوں’ میں نہیں بلکہ ‘ایپس’ (Apps) میں قید ہے۔ نوجوانوں کا بس چلے تو وہ اسکول کی دیواروں پر لکھوا دیں کہ "نصیحت کرنا منع ہے، یہاں صرف فور جی (4G) چلے گا”۔
حیرت تو اس بات پر ہے کہ اس ‘جادوئی ڈبے’ نے نوجوانوں کو اپنے گھر والوں سے اتنا دور کر دیا ہے کہ اب ایک ہی کمرے میں بیٹھے باپ بیٹے کو ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے واٹس ایپ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ چھوٹے بڑے کا تمیز اب صرف اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ کس کے پاس کتنا مہنگا ہینڈ سیٹ ہے اور کس کے فالوورز زیادہ ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ موبائل فون نے ایک ایسی متوازی کائنات تخلیق کر لی ہے جہاں ماں کی ممتا سے زیادہ ‘بیٹری پرسنٹیج’ کی اہمیت ہے اور باپ کی شفقت سے زیادہ ‘تیز رفتار انٹرنیٹ’ عزیز ہے۔ اس ‘سونے کی کان’ نے ہمیں سونے کے بدلے مٹی بھی نہیں دی، بس ایک ایسی بے حسی دے دی ہے جہاں انسان تو زندہ ہیں مگر ان کے احساسات کا نیٹ ورک کٹ چکا ہے۔

اکرم ثاقب

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button