آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

ملازمت بہتر یا کاروبار

محسن خالد محسنؔ کی ایک اردو تحریر

ملازمت بہتر ہے یا کاروبار یہ سوال آج کے پاکستان میں ہر اس نوجوان کے ذہن میں گردش کرتا ہے جس کے پاس تعلیم ہے، خواب ہیں،اور وسائل نہیں ہیں۔ ملک کے موجودہ حالات میں معاشی دباؤ بڑھ چکا ہے۔ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ روزگار کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں اور جو ملازمتیں موجود ہیں وہاں تنخواہ اتنی نہیں کہ ایک گھر کا نظام چل سکے۔ دوسری طرف کاروبار کا نام آتے ہی سرمایہ کی شرط سامنے آتی ہے، جس کے پاس پیسہ نہیں وہ صرف سوچتا رہ جاتا ہے اور عملی قدم نہیں اُٹھا پاتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نوجوان اُلجھن کا شکار ہو جاتا ہے کہ وہ کرے تو کیا کرے۔
پاکستان میں آج حالات یہ ہیں کہ تعلیم یافتہ افراد کی بڑی تعداد ڈگریاں لے کر بھی بے روزگار ہے۔ یونیورسٹی سے نکلنے والا نوجوان جب نوکری کی تلاش میں نکلتا ہے تو اس سے تجربہ مانگا جاتا ہے اور جب تجربہ نہیں ہوتا تو اسے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ اس چکر میں وقت گزر جاتا ہے اور مایوسی بڑھتی جاتی ہے۔ مڈل کلاس والدین کے پاس اتنی استطاعت نہیں کہ وہ بچوں کو کاروبار کے لیے سرمایہ فراہم کرسکیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان یا تو چھوٹی موٹی ملازمت پر مجبور ہو جاتا ہے یا پھر بے روزگاری کا شکار رہتا ہے۔
حکومتی سطح پر صورتحال کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے۔ ادارے کمزور ہیں، میرٹ کا نظام متاثر ہے اور سفارش کا کلچر عام ہے۔ ملازمت کے مواقع محدود ہیں اور جو موجود ہیں وہ بھی اکثر سیاسی یا ذاتی تعلقات کی بنیاد پر تقسیم ہو جاتے ہیں۔ اس ماحول میں ایک عام نوجوان کے لیے آگے بڑھنا آسان نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں۔
کاروبار کو عام طور پر ایک حل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کاروبار صرف پیسہ نہیں بلکہ تجربہ، منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی بھی مانگتا ہے۔ اگرچہ چھوٹا کاروبار کم سرمایہ سے شروع کیا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے بھی ایک ذہنی تیاری ضروری ہوتی ہے۔ مارکیٹ کو سمجھنا، گاہک کو جاننا اور مقابلے کی صلاحیت پیدا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس لیے ہر شخص کاروبار کے لیے تیار نہیں ہوتا۔خاص طور پر وہ نوجوان جو ابھی عملی زندگی میں نیا ہو۔
دوسری طرف ملازمت ایک محفوظ راستہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں ہر مہینے ایک مقررہ آمدنی آتی ہے۔ موجودہ حالات میں یہ آمدنی اکثر اتنی کم ہوتی ہے کہ گھر کے اخراجات پورے نہیں ہو پاتے۔ بجلی، گیس، کرایہ، تعلیم اور علاج کے اخراجات بڑھ چکے ہیں جبکہ تنخواہیں اس رفتار سے نہیں بڑھ رہیں۔ اس لیے ایک ملازم شخص بھی مسلسل مالی دباؤ کا شکار رہتا ہے۔
اس صورتحال میں نوجوان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ صرف ایک راستے پر انحصار نہ کرے۔ اگر وہ ملازمت کرتا ہے تو اس کے ساتھ کوئی چھوٹا ہنر یا جُز وقتی کام بھی ضرور کرے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کو کمپیوٹر آتا ہے تو وہ فری لانسنگ شروع کرے۔ اگر لکھنا آتا ہے تو آن لائن لکھائی کے کام کرے۔ اگر ٹیوشن پڑھا سکتا ہے تو شام کے وقت بچوں کو پڑھائے۔ اس طرح ایک ہی ذریعہ آمدن پر انحصار کم ہو جاتا ہے اور مالی دباؤ کچھ حد تک کم ہو سکتا ہے۔
اسی طرح چھوٹے پیمانے پر کاروبار بھی شروع کیا جا سکتا ہے جس میں بڑے سرمایہ کی ضرورت نہ ہو۔ مثال کے طور پر آن لائن خرید و فروخت، مقامی سطح پر سروس دینا یا ہنر کی بنیاد پر کام شروع کرنا۔ بہت سے نوجوان آج کے دور میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے گھر بیٹھے آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ یہ راستہ آسان نہیں مگر ناممکن بھی نہیں۔ اس کے لیے مستقل مزاجی اور سیکھنے کی خواہش ضروری ہے۔
پاکستان میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ معاشرہ نوجوان کو صرف نوکری کی طرف دھکیلتا ہے اور کاروبار کو غیر محفوظ راستہ بتلاتا ہے۔ والدین بھی اکثر یہی چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ کسی سرکاری یا پرائیویٹ ادارے میں لگ جائے تاکہ ایک مستقل آمدنی ہو۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اب نوکری بھی پہلے جیسی محفوظ نہیں رہی۔ ادارے کمزور ہو رہے ہیں اور چھانٹیوں کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔
اسی لیے نوجوان کو اپنی سوچ کو وسیع کرنا ہوگا۔ اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ آج کے دور میں صرف ڈگری کافی نہیں بلکہ مہارت ضروری ہے۔ اگر مہارت ہو گی تو نوکری بھی ملے گی اور کاروبار بھی کیا جا سکے گا۔ مہارت ہی اصل سرمایہ ہے جس کے ذریعے انسان اپنی زندگی بدل سکتا ہے۔
چھوٹے ملازم کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی موجودہ ملازمت کو صرف تنخواہ کا ذریعہ نہ سمجھے بلکہ اسے سیکھنے کا موقع سمجھے۔ دفتر میں جو بھی کام ملے، اسے بہتر طریقے سے کرے۔ وقت کی پابندی کرے اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ ساتھ ساتھ اپنی آمدنی کا ایک حصہ بچا کر چھوٹے پیمانے پر سرمایہ کاری کی طرف جائے۔ یہ سرمایہ چاہے بہت کم ہو مگر وقت کے ساتھ بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مہنگائی نے عام انسان کو ذہنی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ غریب طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے اور بعض اوقات حالات اتنے خراب ہو جاتے ہیں کہ لوگ مایوسی کی طرف چلے جاتے ہیں۔ ایسے میں معاشرے کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کا سہارا بنے۔ افسوس کہ اجتماعی رویہ کمزور ہو چکا ہے اور ہر شخص اپنی فکر میں لگا ہوا ہے۔
سیاست دان اپنے مفادات میں مصروف ہیں اور عام آدمی کے مسائل اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ امیر طبقہ اپنی دُنیا میں خوش ہے اور غریب کی مشکلات سے دور ہے۔ اس غیر مساوی معاشرے میں نوجوان کے لیے راستہ بنانا مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں۔
اگر نوجوان چاہے تو وہ اپنی زندگی بدل سکتا ہے۔ اسے صرف ایک فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مایوسی کو قبول نہیں کرے گا۔ وہ سیکھے گا، محنت کرے گا اور چھوٹے چھوٹے قدموں سے آگے بڑھے گا۔ ملازمت ہو یا کاروبار اصل چیز محنت اور تسلسل ہے۔ جو شخص مسلسل کوشش کرتا رہتا ہے وہ آخر کار اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔
آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ملازمت اور کاروبار دونوں میں سے کوئی ایک ہمیشہ بہتر نہیں ہوتا۔ بہتر وہی ہے جو آپ کے حالات، آپ کی صلاحیت اور آپ کی محنت کے مطابق ہو۔ آج کے پاکستان میں کامیاب وہی ہے جو ایک ذریعہ آمدن پر نہیں رہتا بلکہ اپنی آمدنی کے کئی راستے بناتا ہے۔ یہی سوچ نوجوان کو مایوسی سے نکال کر اُمید کی طرف لے جا سکتی ہے اور یہی اس دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

محسن خالد محسنؔ

post bar salamurdu

محسن خالد محسن

محمد محسن خالد (محسن خالد محسن) ؔ شاعر ،ادیب،محقق ،نقاد اور اُستاد ہیں۔ ان کے تین شعری مجموعے "کچھ کہنا ہے"،دُھند میں لپٹی شام اور"ت لاش" شائع ہو چکے ہیں۔ا نھوں نے کلاسیکی غزل میں "کلاسیکی غزل میں تلمیحات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ" کے موضوع پرناردرن یونی ورسٹی نوشہرہ سے پی ایچ ۔ڈی(اُردو) 2024 میں کی ہے۔بہ حیثیت لیکچرار(اُردو) گورنمنٹ شاہ حسین گریجوایٹ کالج چوہنگ میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ ان کے پنتیس سے زائد تحقیقی مقالات ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے مصدقہ جنرلز میں شائع ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کے معروف ادبی رسائل وجرائد اوربرقی اخبارات و بلاگز میں ان کے متفرق موضوعات پر مضامین اور کالمز باقاعدگی سے شائع ہو تے رہتے ہیں۔ ادب،سماج، معاشرت،سیاست و حالاتِ پر ببانگِ دُہل اپنی رائے کا اظہارکرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button