اردو غزلیاتپیر نصیر الدین نصیرشعر و شاعری

مری زندگی تو فراق ہے

پیر نصیر الدین نصیر کی ایک اردو غزل

مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
وہ نگاہ شوق سے دور ہیں رگ جاں سے لاکھ قریں سہی

ہمیں جان دینی ہے ایک دن وہ کسی طرح وہ کہیں سہی
ہمیں آپ کھینچیے دار پر جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی

سر طور ہو سر حشر ہو ہمیں انتظار قبول ہے
وہ کبھی ملیں وہ کہیں ملیں وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی

نہ ہو ان پہ جو مرا بس نہیں کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں
میں انہیں کا تھا میں انہیں کا ہوں وہ مرے نہیں تو نہیں سہی

مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے مری آرزو کا بھرم رہے
تری انجمن میں اگر نہیں تری انجمن کے قریں سہی

ترے واسطے ہے یہ وقف سر رہے تا ابد ترا سنگ در
کوئی سجدہ ریز نہ ہو سکے تو نہ ہو مری ہی جبیں سہی

مری زندگی کا نقیب ہے نہیں دور مجھ سے قریب ہے
مجھے اس کا غم تو نصیب ہے وہ اگر نہیں تو نہیں سہی

جو ہو فیصلہ وہ سنائیے اسے حشر پر نہ اٹھائیے
جو کریں گے آپ ستم وہاں وہ ابھی سہی وہ یہیں سہی

اسے دیکھنے کی جو لو لگی تو نصیرؔ دیکھ ہی لیں گے ہم
وہ ہزار آنکھ سے دور ہو وہ ہزار پردہ نشیں سہی

پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button