اردو غزلیاتشعر و شاعریعدیم ہاشمی

پلٹ کے آنکھ نم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا

عدیم ہاشمی کی اردو غزل

پلٹ کے آنکھ نم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا
گئے لمحوں کا غم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا

سر تسلیمِ خم کر کے بہت کچھ مل تو سکتا ہے
سر تسلیمِ خم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا

محبت ہو تو بے حد ہو، جو نفرت ہو تو بے پایاں
کوئی بھی کام کم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا

میں دہشت گرد ہوتا تو اسے برباد کر دیتا
مگر اس پر ستم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا

میں اک اک بوند کے پیچھے ، نہ بھاگا ہوں نہ بھاگوں گا
سمندر یوں بہم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا

عدیم انساں کی آنکھوں میں تو دنیا دیکھ سکتا ہوں
سبو کو جامِ جم کرنا مجھے ہرگز نہیں آتا

عدیم ہاشمی 

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button