آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمحمد عمیر سالک
یہ تلخ لہجہ، ہوا کی خنکی
محمد عمیر سالک کی ایک اردو غزل
یہ تلخ لہجہ، ہوا کی خنکی، برستی بوندیں بتا رہی ہیں
اذیتوں کو لئے برس کی طویل راتیں بھی جا رہی ہیں
نئے برس کی خوشی تو ہے پر، ملال یہ ہے مرے دسمبر
ہماری یادوں کے زرد پتے، تری ہوائیں گرا رہی ہیں
کہیں پہ خوابوں کی کرچیاں ہیں، کہیں امیدوں کے خالی کاسے
نئے سفر کی حسین راہیں، مسافروں کو بلا رہی ہیں
لبوں پہ تالے پڑے ہوئے ہیں، مگر یہ آنکھوں کی بے لباسی
جو رازِ دل تھے سنبھال رکھے، زمانے بھر کو دکھا رہی ہیں
نہ کر تو ہم پر یہ طنزِ الفت، کہ ہم ہیں سب کچھ لٹائے بیٹھے
یہ فاصلے جو بڑھے ہیں جاناں، تری انائیں بڑھا رہی ہیں
ترا بچھڑنا تو خیر سالک، زمانے بھر کا اصول ٹھہرا
ہمیں تو غیروں سے تیری الفت کی داستانیں رلا رہی ہیں
محمد عمیر سالک








