30 جون, 2020

    کوفت سے جان لب پہ آئی ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    7 جنوری, 2020

    آلام روزگار کو آساں بنا دیا

    ایک اردو غزل از اصغر گونڈوی
    8 اپریل, 2017

    وہی کارواں وہی قافلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل
    22 مارچ, 2025

    ریت پر نقش بنائیں گے

    ایک غزل از سید زوار
    27 جون, 2020

    محبت نے کھویا کھپایا ہمیں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    5 فروری, 2021

    اُس نے ہیں جاں سے مارنے والے کیے ہوئے

    ڈاکٹر فخر عباس کی ایک اردو غزل
    9 جون, 2020

    شعاعِ فردا

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    11 مارچ, 2022

    بے چہرگی سے چہرہ چھپا کر کھڑا رہا

    صابر رضوی کی ایک اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    اک بار پھر وطن میں

    حفیظ جالندھری کی اردو غزل
    22 مئی, 2024

    وہی پھر مجھے یاد

    خمار بارہ بنکوی کی ایک اردو غزل
    18 دسمبر, 2019

    ہم عاشق فاسق تھے ہم صوفی صافی ہیں

    حسرت موہانی کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    گرمی سے میری ابر کا ہنگامہ سرد ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    31 جولائی, 2022

    دیکھا نہیں جاتا مرے سردار تماشا

    افتخار شاہد کی ایک غزل
    30 جون, 2020

    انا کا نشہ خودی کا خمار ٹوٹتا ہے

    قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
    26 اپریل, 2020

    رات درکار تھا سنبھالا مجھے

    ایک اردو غزل از رسا چغتائی

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button