- Advertisement -

خالی سینے میں دھڑکتے ہوئے آوازے سے

مقصود وفا کی ایک اردو غزل

خالی سینے میں دھڑکتے ہوئے آوازے سے

بھر گئی عمر مری سانس کے خمیازے سے

منتظر ہی نہ رہا بام تمنا پہ کوئی

اور ہوا آ کے گزرتی رہی دروازے سے

شام صد رنگ مرے آئنہ خانے میں ٹھہر

میں نے تصویر بنانی ہے ترے غازے سے

مجھ کو آیا ہی نہیں جس کا یقیں آج تلک

وہ خدا کتنا بڑا ہے مرے اندازے سے

اور کچھ ہاتھ نہ آیا تو مری آنکھوں نے

چن لیے خواب ہی بکھرے ہوئے شیرازے سے

 

مقصود وفا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
مقصود وفا کی ایک اردو غزل