آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیات

میں ہجر اور سکوت کو باہم ملاؤں گا

ماجد جہانگیر مرزا کی ایک اردو غزل

میں ہجر اور سکوت کو باہم ملاؤں گا
پھر اس کے بعد وصل کا نکتہ اٹھاؤں گا

کارِ ہوس نے عشق مرا کھوکھلا کیا
جتنا بھی ہو سکا اسے اتنا گھٹاؤں گا

ان واعظانِ شہرکو معلوم بھی نہیں
میں بندگی کے باب میں کیا کر دکھاؤں گا

جتنے مغالطے ہیں خرد کے نکال کر
حیرت سرائے عشق میں ہر دم نچاؤں گا

جل جاوں گا میں آگ میں یا پاوں گا دوام
جوبھی بنے گا خاک کا میں تو بناؤں گا

کوشش کروں گا نور سے ہو خاک مستفید
اک بار تیرے عرش سے میں سر لگاؤں گا

یہ عشق کے مقام کی ادنی مثال ہے
دنیا کو اپنے ہاتھ پہ دنیا دکھاؤں گا

ماجد درودِ پاک کی کثرت سے ایک دن
رستے پکاریں گے مجھے منزل میں پاؤں گا

ماجد جہانگیرمرزا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button