آپ کا سلاماردو نظمشعر و شاعریمحمد یوسف برکاتی

یہ حادثات ہیں کہ رکتے ہی نہیں

محمد یوسف میاں برکاتی کی ایک اردو نظم

سوچنے کی بات ہے کہ حادثات رکتے ہی نہیں
کوئی بچ گیا تو ٹھیک ورنہ لوگ بچتے ہی نہیں

حکمرانوں پر نالاں ہے تو کوئی انتظامیہ پر برہم
الزامات ایک دوسرے پر کبھی تھمتے ہی نہیں

بے حس لوگوں پر بڑی ڈھیلی ہوتی ہے رب کی
ایسے لوگ اتنی آسانی سے یہاں سے جاتے ہی نہیں

وہ رب تو جبار بھی ہے اور قہار بھی ہے یاروں
مگر ہم ہیں کہ اس رب سے بالکل ڈرتے ہی نہیں

غور کرو اور سوچو تنہائی میں بیٹھ کر یاروں
کون ہے ذمہ دار اور کیوں یہ سامنے آتے ہی نہیں

نہ حکمرانوں کا کوئی دوش ہے نہ ہی انتظامیہ کا
یہ سارا قصور ہمارا ہے کہ ہم کبھی بدلتے ہی نہیں

ذکر ہے قرآن میں صاف پچھلی قوموں کی تباہی کا
یاد رکھو فیصلے قرآن کے کبھی بھی ٹلتے ہی نہیں

درست کرلو اعمال یوسف جو بچنا ہے عذابات سے
پھر نہ کہنا کہ یہ حادثات ہیں کہ رکتے ہی نہیں

محمد یوسف میاں برکاتی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button