آپ کا سلاماردو غزلیاتسردار حماد منیرشعر و شاعری

پہاڑ، ندیوں میں آندھیوں کے بسیرے

سردار حماد منیر کی ایک اردو غزل

پہاڑ، ندیوں میں آندھیوں کے بسیرے دل کو بتا رہے ہیں
کہ ہوگی شبنم ہر ایک جانب کہ دن یہ ساون کے آ رہے ہیں

زوال آیا ویرانیوں پہ ، ہیں چار سو ، وادیوں میں پھیلے
کہیں پہ تیتر کہیں پرندے جو مل کہ سب چہچہا رہے ہیں

شگوفے باغوں میں کِھل رہے ہیں ہیں تِتِّلیا اُن پہ رنگ برنگی
یہ موسمِ گل ، بتا رہا ہے کہ دن یہ خوشیوں ، کے آ رہے ہیں

درخت سرسبز ہو رہے ہیں گلوں میں خوشبو مہک رہی ہے
اداس بلبل ،سریلی کوئل خوشی میں سب گنگنا رہے ہیں

اداس رہتے ، تھے ہر گھڑی جو وہیں سے ہو کر ،میں آرہا ہوں
وہ لوگ تنہائی بھول بیٹھے ہیں اب قفس کو سجا رہے ہیں

بہل رہا ہے ہر ایک مصرع پہ دل مرا ، اس کو کیسے روکوں
حیراں ہوں جنت کی دلکشی آپ کس طرح سے دِکھا رہے ہیں

نسیمِ دلبر کے میٹھے جھونکو میں جن کا چلنا محال تر تھا
وہ باد ِصرصر کی سرد لہروں میں آج زلفیں بنا رہے ہیں

وہ آبھی جائیں تو کیا ستم ہے یہ خواب پھر بھی رہیں ادھورے
نہ ہوش سنبھلے نہ بات ہو بیخودی میں لب کپکپا رہے ہیں

حمادؔ ان کی محبتوں کے فریب میں تم بھی پھنس گئے ہو
کہا نہ تھا جی وہ مست نظروں سے سب کو اپنا بنا رہے ہیں

نہیں ہیں داد و درہم کے خواہا ہمیں فقط ان کی جستجو ہے
زئے مقدر کہ حامی ہم سے وہ آج ملنے کو آ رہے ہیں

سردار حمادؔ منیر

post bar salamurdu

سردار حماد منیر

نام ـ سردار حمادؔ منیر - تخلص - حامی - ملک - پاکستان - شہر ـ ایبٹ آباد - رہائشی پتہ - نتھیاگلی ملاچھ - تاریخ پیدائش - 21دسمبر2006 -

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button