- Advertisement -

نبی اُمّیﷺ بحیثیت معلم

ارسلان اللہ خان کا اسلامی کالم

مضمون: نبی اُمّیﷺ بحیثیت معلم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

لو ح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجو د الکتا ب
گنبد آ بگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب!

(علامہ اقبال)

تما م تعر یفیں اللہ کے لئے جو تما م جہا نو ں کا پا لنے والا ہے اور لاکھو ں در ود سلا م اس کے رسو ل حضرت محمد ﷺ پر جو تما م جہا نو ں کے لئے رحمت ہیں۔ اللہ تعا لیٰ بے شک ہر شے کا خا لق ہے۔ توانائی بھی اسی نے خلق کی اور انسا ن کو حر کت میں رہنے کیلئے تقا ضے بھی اسی خلاّق عالم نے عطا کئے پھر اس حر کت کو در ست سمت میں رواں دواں رکھنے کے لئے رہنما ئی فراہم کی۔ اللہ تعالیٰ نے رہنما ئی کا سلسلہ اپنے انبیا ء کرام کے ذریعے قائم فر ما یا۔ اانبیا ء کرا م ؑ نے انسا نو ں کی تعلیم و تر بیت اور معا شرے کے استحکا م اور ارتقا ء کے لئے ٹھو س بنیا دیں فراہم کیں۔ نبو ت و رسا لت کا یہ سلسلہ نو عِ انسا نی کے سب سے بڑ ے معلم اور تہذیب انسا نی کے سب سے بڑے معما ر حضرت محمد ﷺ پر مکمل ہوا۔

محمد رسو ل اللہ ﷺ کی تعلیمات پر مبنی نظا م پوری دنیا کے لئے امن و سلامتی،فو زو فلا ح، تعمیر و تر قی اور علو م و فنو ن کے فر وغ کی ضما نت فراہم کر تاہے۔ یہ نظام فر د اور معا شرے کو توا زن و اعتدا ل عطا کر تا ہے۔ یہ تو ازن انسا ن کے ما د ّی تقا ضو ں کی تکمیل کے سا تھ سا تھ اس کے رو حانی تقا ضو ں کی بھی تکمیل کر تاہے۔ ہمار ے پیار ے نبی ﷺ بے شک ہمہ صفات اور جا مع کما لات تھے۔

” حُسنِ یو سف ؑ، دم عیسی ؑ، ید ِ بیضا داری
آنچہ خوبا ں ہمہ دارند تو تنہا داری ”
البتہ آ پ ﷺ کی ایک نہا یت اہم خا صیت ہے کہ آ پ ﷺ “معلم ” بھی ہیں۔ آ پ ﷺ نے خو د فر ما یا ہے کہ:

انما بعثت معلما (ابن ماجہ)

ترجمہ: بے شک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔

آ پ ﷺکی معلما نہ صفا ت کے تذ کرے سے قبل اس معا شرے کے حالات کا جا ئز ہ لینا ضروری ہے جہا ں آ پ ﷺ معلم بن کر آئے۔ اسے دورِ جا ہلیت کہتے ہیں یہ وہ دور ہے جب دنیا ظلم و بر بر یت اور جہا لت کا مسکن تھی۔ تہذیب و تمدّ ن کے کو ئی نا م تک سے واقف نہ تھا۔ اخلا ق اور آداب سے و ہ لو گ یکسر نا بلد تھے جبکہ رقص و سر ور کی محفلیں اور عیش و نشا ط کی انجمنیں خو ب سجتی تھیں۔ حق پر ستی اور وحدا نیت کا تصور انسا نی ذہنو ں سے محو ہو چکا تھا اور بُتا ن ِ آزری کا چرچا اور غلغلہ تھا۔ جہا لت علم کا تمسخر اڑاہی تھی معمو لی با توں پر جنگ و جد ل اور قتل و غارت گر ی کا با زار گر م ہو جا تا تھا۔

بقو ل مو لانا الطاف حسین حالی ؒ:

کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا
کہیں گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا

یو نہی ہوتی رہتی تھی تکر اراُن میں
یو نہی چلتی رہتی تھی تلور اُ ن میں

ایسے میں رسو ل اکرم ﷺ اس دنیا میں تشر یف لائے، اسی تاریک اور مایوس کُن فضائمیں پر وان چڑ ھے اور یہی شب و رو ز تھے کہ جب چالیس سال کی عمر میں آ پ ﷺ ہدا یت الہٰی کے نور اور حیاتِ انسانی کی کا یا پلٹ دینے والے دستور کو لیکر غا رِ حرا سے نکلے۔

اُتر کر حرا سے سوئے قو م آیا
اور اِک نسخہئ کیمیا ساتھ لایا

(حالیؒ)
اس تنا ظر میں عرب میں حضور اکر م ﷺ کی بعثت کا واقعہ تاریخ ِ انسانی کا ایک دلچسپ واقعہ ہے۔ عر ب اس وقت دنیا کا پس ماندہ ترین خطّہ تھا۔ ایسے انسانو ں کو علم و حکمت سے بہر ہ ور کرنے کے اس عظیم اعزاز کے لئے جس ذات کو منتخب کیا گیا، اس نے کسی بھی انسان کے آگے کبھی زانوئے تلمذ تہہ نہ کہا تھا، نہ ہی کسی سے کچھ سیکھا تھا۔

جیسا کہ قرآن پاک میں ہے کہ:

“وہی ہے جس نے امیّوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا تاکہ انہیں اس کی آیتیں سنا ئے، ان کاتزکیہ کرے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے۔ اگر چہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے “۔

(سو رہ ئجمعہ آیت نمبر 2)

حضرت محمد مصطفی ﷺ کے بڑے معجزو ں ں سے ایک یہ ہے کہ آ پ ﷺ ” اُمّی ” تھے، آ پ ﷺ کا کوئی استا د نہ تھا، لیکن آ پ ﷺ نے دنیا کا عظیم ترین علمی، فکر ی اور تمد نی انقلا ب بر پا کیا تھا۔ اما م بصیر یؒ اپنے شہر ہئ آفا ق قصید ہ بردہ شر یف میں فر ما تے ہیں کہ:

کفاک با لعلمہ فی الامی معجز ۃ
فی الجاہلیۃ ولتادیب فی الیتم

ترجمہ: حضور اکر م ﷺ کا زما نہئ جا ہلیت میں اُمّی ہو کر علم حقیقی کا عالم ہونا اور یتیم رہ کر صا حبِ ادب ہو نا (ایک سمجھ دار آدمی)کے لئے یقینی حجت ہے اور حضرت محمد ﷺ کی جا نب سے معجز ہ ہے “۔

وہ اُمّی رسول اللہ ﷺ ہی ہیں جنہو ں نے ایک ان پڑ ھ قو م میں قلم کی عز ت و تو قیر کو معتبر ٹھہرادیا،لکھنے کے عمل (کتا بت)کو عملاً رواج دیا، اور ہر اعتبار سے اپنے اصحابؓ میں سے نا خوا ندگی کا خاتمہ کیا۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں اس لئے کہ اولین وحی اور اوّلیں آیات میں ہی قرا ئت قلم اور تعلیم کی رفعت ِ شان اور اہمیت کو بیا ن کر دیا گیاتھا۔ قرآن پا ک میں اللہ فرما تا ہے کہ:

” پڑھو اپنے رب کے نا م کے سا تھ جس نے پیدا کیا۔ پیدا کیا انسا ن کو جمے ہوئے خو ن سے پڑھو تمہارا رب بڑا کریم ہے ” جس نے علم سکھا یا قلم کے ذریعے “۔

(سور ہ ئ العلق آ یت 1-4)

آ پ ﷺ نے علم کے نور سے زند گی کی تاریک راہو ں کو روشن کیا، بھٹکے ہوو ئ ں کو صراطِ مستقیم دکھا ئی اور اس نسخہ کیمیا قر آن مجید کے ذریعے انسان کی انفرادی اور اجتما عی زند گی کو بد ل کر رکھ دیا۔ ذلت و خواری کے مقام سے اٹھاکر عزت و شر ف کی جگہ پر بٹھا یا، ایک مکمل واکمل دستور حیات اور آئین حکمرا نی عطا کیا۔ معا شرت کے آدا ب سکھا ئے۔

سبق پھر شر یعت کو ان کو پڑھا یا
حقیقت کا گر ان کو اک اک بتا یا
زما نے کے بگڑ ے ہو ؤ ں کو بنا یا
بہت دن کے سو تے ہوؤ ں کو جگا یا

اُتر کر حرا سے سوئے قو م آیا
اور اِک نسخہئ کیمیا ساتھ لایا

(حالیؒ)
اس تنا ظر میں عرب میں حضور اکر م ﷺ کی بعثت کا واقعہ تاریخ ِ انسانی کا ایک دلچسپ واقعہ ہے۔ عر ب اس وقت دنیا کا پس ماندہ ترین خطّہ تھا۔ ایسے انسانو ں کو علم و حکمت سے بہر ہ ور کرنے کے اس عظیم اعزاز کے لئے جس ذات کو منتخب کیا گیا، اس نے کسی بھی انسان کے آگے کبھی زانوئے تلمذ تہہ نہ کہا تھا، نہ ہی کسی سے کچھ سیکھا تھا۔

جیسا کہ قرآن پاک میں ہے کہ:

“وہی ہے جس نے امیّوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا تاکہ انہیں اس کی آیتیں سنا ئے، ان کاتزکیہ کرے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے۔ اگر چہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے “۔

(سو رہ ئجمعہ آیت نمبر 2)

حضرت محمد مصطفی ﷺ کے بڑے معجزو ں ں سے ایک یہ ہے کہ آ پ ﷺ ” اُمّی ” تھے، آ پ ﷺ کا کوئی استا د نہ تھا، لیکن آ پ ﷺ نے دنیا کا عظیم ترین علمی، فکر ی اور تمد نی انقلا ب بر پا کیا تھا۔ اما م بصیر یؒ اپنے شہر ہئ آفا ق قصید ہ بردہ شر یف میں فر ما تے ہیں کہ:

کفاک با لعلمہ فی الامی معجز ۃ
فی الجاہلیۃ ولتادیب فی الیتم

ترجمہ: حضور اکر م ﷺ کا زما نہئ جا ہلیت میں اُمّی ہو کر علم حقیقی کا عالم ہونا اور یتیم رہ کر صا حبِ ادب ہو نا (ایک سمجھ دار آدمی)کے لئے یقینی حجت ہے اور حضرت محمد ﷺ کی جا نب سے معجز ہ ہے “۔

وہ اُمّی رسول اللہ ﷺ ہی ہیں جنہو ں نے ایک ان پڑ ھ قو م میں قلم کی عز ت و تو قیر کو معتبر ٹھہرادیا،لکھنے کے عمل (کتا بت)کو عملاً رواج دیا، اور ہر اعتبار سے اپنے اصحابؓ میں سے نا خوا ندگی کا خاتمہ کیا۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں اس لئے کہ اولین وحی اور اوّلیں آیات میں ہی قرا ئت قلم اور تعلیم کی رفعت ِ شان اور اہمیت کو بیا ن کر دیا گیاتھا۔ قرآن پا ک میں اللہ فرما تا ہے کہ:

” پڑھو اپنے رب کے نا م کے سا تھ جس نے پیدا کیا۔ پیدا کیا انسا ن کو جمے ہوئے خو ن سے پڑھو تمہارا رب بڑا کریم ہے ” جس نے علم سکھا یا قلم کے ذریعے “۔

(سور ہ ئ العلق آ یت 1-4)

آ پ ﷺ نے علم کے نور سے زند گی کی تاریک راہو ں کو روشن کیا، بھٹکے ہوو ئ ں کو صراطِ مستقیم دکھا ئی اور اس نسخہ کیمیا قر آن مجید کے ذریعے انسان کی انفرادی اور اجتما عی زند گی کو بد ل کر رکھ دیا۔ ذلت و خواری کے مقام سے اٹھاکر عزت و شر ف کی جگہ پر بٹھا یا، ایک مکمل واکمل دستور حیات اور آئین حکمرا نی عطا کیا۔ معا شرت کے آدا ب سکھا ئے۔

سبق پھر شر یعت کو ان کو پڑھا یا
حقیقت کا گر ان کو اک اک بتا یا
زما نے کے بگڑ ے ہو ؤ ں کو بنا یا
بہت دن کے سو تے ہوؤ ں کو جگا یا

(سنن ابی داؤ د)

پیارے نبی ﷺ کا کلام نہا یت فصیح و بلیغ ہو تا تھا حضور اکر م ﷺ کے اندازِ تعلیم میں ایک عا دتِ شر یفہ یہ بھی تھی کہ آ پ ﷺ با ت کو دہرا یا کر تے تھے تاکہ بات سمجھ میں آجائے اور سب لو گ اس کو سن لیں اور یا د کر لیں۔ تعلیم کے ما ہر ین یہی کہتے ہیں کہ بات کو جب تک دہرا یا نہ جائے وہ ذہن سے حذ ف ہو جا تی ہے۔ مثا ل کے طور پر رسو ل اللہ ﷺ نے حضرت عبد اللہ ابنِ عباس ؓ سے فرمایا:

“جب تمہیں غصّہ آئے تو خا موش ہو جا ؤ اور جب تمہیں غصّہ آئے، خا موش ہو جا ؤ “۔
(مسندِ احمد)
معلم کا مل ﷺ اکثر و بیشتر اصحاب سے کوئی سوال در یافت کر تے اور اس طرح صحا بہ ؓ یکسوئی کے سا تھ آ پ ﷺ کی جا نب متوجہ ہوجاتے،دورانِ تعلیم سامعین کو متوجہ اور بات کی تاکید کے لئے اسلو بِ استفہا م کا اثر بہت گہرا ہو تاہے، تعلیم و تر بیت کے دوران ہمارے نبی ﷺکثرت سے اس اسلو ب کو استعما ل فرما تے تھے حضرت ابو ہر یر ہ ؓسے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فر مایا:

“اگر کسی شخص کے دروازے پر نہر (جاری)ہواور وہ روزانہ اس میں پانچ مرتبہ غسل کر ے تو تم کیا سمجھتے ہو کہ ایسا کر نا اس کے میل کچیل کو با قی چھو ڑے گا؟

انہو ں نے عر ض کیا: “وہ اس کے میل کو با قی نہ رہنے دے گا “۔آ پ ﷺ نے فرمایا :

“یہی حا ل پانچ نما زو ں کا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گنا ہو ں کو مٹا دیتا ہے۔”
(بخاری)

سیرت طیبہ سے یہ بات ثابت ہے کہ آ نحضرت ﷺ نے اپنے شا گر دو ں کو ان کے نا مو ں، کنیتو ں اور القا ب کے سا تھ پکارا سلسلہئ تعلیم میں اس اندازِ تخاطب کا اثر ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ طلبہ کی توجہ مبذول کر انے کا یہ بہترین طر یقہ ہے۔ علا وہ ازیں اس سے طلبہ کے دل میں مسرت پیدا ہوتی ہے کیونکہ بڑ ے کی طر ف سے اس طرح چھو ٹے کے تخاطب میں ایک گونہ اظہار تعلق ہو تا ہے۔ شر ح نو وی ؒمیں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابی بن کعب ؒ کو ان کی کنیت سے پکارا اور عربو ں کے یہا ں کنیت سے پکار نے میں تکریم کا پہلو ہو تا ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ کو ابو تراب (مٹّی کا با پ)کی کنیت سے پکارا،اسی طرح حضرت ابو ہر یر ہ ؓ کو ان کی کنیت سے پکارا، ابو ہر یر ہ کے معنی ہیں بلیو ں کا با پ۔

حضور اکر م ﷺ نے حضرت خا لد بن ولیدؓ کو سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کا لقب عطا کیا، اسی طرح حضرت ابو عبید ہ بن جرا ح ؓکو امین الا مت یعنی امت کا امین کا لقب دیا۔

تعلیم میں مثالو ں سے اپنی بات کو سمجھا نا ایک بہتر ین حکمتِ عملی ہے جس سے طلبہ بات کو با آسانی سمجھ لیتے ہیں۔ہمارے پیارے نبی ﷺ تعلیم و تربیت کی غر ض سے مثالیں بیا ن فرما یا کر تے تھے مثلاً حضر ت جا بر بن عبد اللہ ؓ فر ماتے ہیں کہ رسو ل اکر م ﷺ نے فر مایا:

” میر ی اور مجھ سے پہلے انبیا ء ؑ کی مثا ل ایسی ہے جیسے ایک شخص نے کوئی عمارت بنائی تو اس کو خوب آراستہ پیرا ستہ کیا، لیکن اسکے کو نوں میں سے ایک اینٹ کی جگہ (چھو ٹ گئی)، لو گ اس میں گھو متے رہے اور(اس کو دیکھ کر)خو ش ہوتے رہے اور کہتے رہے اس اینٹ کو کیو ں نہیں رکھا گیا؟

آ پ ﷺ نے فرما یا: ” تومیں ہی وہ اینٹ ہو ں اور میں خا تم المنبین ہو ں “۔ (بخاری)

معلم انسانیت ﷺ بسا اوقات مسائل کو خو ب اچھی طر ح سمجھا نے کی خاطر خطو ط کھینچ کر اور مختلف شکلیں بنا کر بات کی وضا حت فر ما یا کرتے تھے۔ مثلاًایک بار آپ ﷺ نے لمبی امیدو ں اور قر ب قیا مت کے لئے خطو ط کھینچ کر صحا بہ ؓ کو سمجھا یا۔حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکر م ﷺنے ایک مر بع شکل بنائی اور اس کے درمیا ن ایک خط کھینچا۔اس سے نکلا ہوا (خط)اس کی آر زو ہے اور یہ چھو ٹے چھو ٹے خطو ط مصا ئب ہیں، پس اگر وہ ایک سے بچ نکلتا ہے تو دوسر ی میں پھنس جا تا ہے اور دوسری سے نکلتا ہے تو تیسری میں گرفتار ہو جا تاہے۔ (بخاری)

اس حد یث شریف سے یہ بات واضح ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انسانی آرزؤ ں کی درازی اور انسا ن کے مسلسل مصائب اور مو ت کی گرفت میں ہو نے کو ایک شکل بنا کر صحا بہ کو سمجھا یا۔ اما م طببیؓ نے حد یث شر یف میں بیا ن کر دہ شکل اس طر ح بنائی۔

امید

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔موت
زندگی کی مہلت

اُمّی و دقیقہ دان عالَم
بے سایہ وسا ئبا نِ عالَم

پیارے نبی ﷺ نے مدینے میں تعلیم کا ایک باقا عد ہ نظا م قائم فر ما یا۔ مدینہ منو رہ میں صفہ واحد در س گا ہ نہ تھی، بلکہ یہا ں کم ازکم نو مسجد یں عہد نبوی ؐ میں تھیں اور اس میں کوئی شُبہ نہیں ہے کہ ہر مسجد اپنے آس پا س والو ں کے لئے در س گاہ کا بھی کا م دیتی تھی۔ مسجد قبا ء مدینہ منور ہ جنوب میں کوئی دو ڈھائی میل پر واقع ہے۔ بیا ن کیا جا تاہے کہ وقتاً فو قتاً رسو ل کریم ﷺ وہا ں تشر یف لے جا تے اور وہا ں کی مسجد کے مدر سے کی شخصی طور پر سے نگرانی فر ماتے تھے۔عر ب میں خطو ط پر مہر لگا نے کا رواج سب سے پہلے جنا ب رسا لت ﷺ سے شروع ہو ا۔ تعلیم صر ف مردو ں کے لئے نہ تھی بلکہ آ پ ﷺ نے ہفتے میں ایک دن عورتو ں کی تعلیم کے لئے بھی مقرر کیا تھا۔ آ پ ﷺ کی زوجہئ مطہر ہ حضرت عا ئشہ صد یقہؓ کو فقہ اور دیگر اسلا می علو م نیز ادب، شاعری اور طبِ میں بڑا دخل تھا۔

آ پ ﷺ نے اپنی امت میں علم کی فضیلت، علم کی طلب اور نشر واشاعت کے لئے بے شمار ہدا یتیں فرما ئیں۔ قر آن پاک میں ہے کہ:

وقل رب زد نی علما

ترجمہ: اور آ پ ﷺ یہ دعا کیجئے اے میر ے رب میر ے علم میں اضا فہ فر ما۔

(سو رہ ئ طحہٰ آیت 114)

آ پ ﷺ نے یہ واضح کر دیا کہ علم صر ف مر دو ں کے لئے ہی مخصو ص نہیں بلکہ خواتین بھی علم حاصل کریں۔ آ پ ﷺ نے فر ما یا:

“علم حاصل کرنا ہر مسلما ن (مر د عورت)پر فر ض ہے “۔

(ابنِ ماجہ)

اسی طرح علم کی نشر واعا عت کے لئے آپ ﷺ نے امت کو علم کی تر غیب دیتے ہوئے ارشا د فرمایا:

بلغواعنی ولوآیۃ

” مجھ سے (علم)آگے پہنچا ؤ اگر چہ وہ ایک آیت ہی ہو “۔

(تر مذی)

شاعر مشر ق علا مہ اقبال ؒ نے کیا خو ب فرما یا ہے کہ:
مصطفی بر ساں خو یش راکہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ اونہ رسید ی تما م بو لہبی است

(علا مہ اقبال)

ترجمہ: اے مسلما ن! اگر حضور ﷺ کی تعلیمات سے استفا دہ نہ کر سکا یا انؐ کی روح سے آگاہ نہ ہو سکا تو پھر تیرا علم و فضل سب بے کار ہے بلکہ وہ تیر ی گمرا ہی کا با عث ہو جائے گا۔

دیکھا جائے تو یہ بات مائنی ہی پڑ ے گی کہ کیا دنیا میں کسی استاد کو قر یش مکہ سے زیا دہ بگڑ ے ہوئے شا گر دو ں سے کبھی واسطہ پڑا ہو گا؟لیکن جب اس رو شن دل اور رو شن دما غ معلم پیارے نبی ﷺ نے محنت کے پسینے اور مؤ ثرطریقہ تدریس سے ان کے دلو ں اور ذہنو ں کی آبیا ری کی تو وہی شا گر د رہتی دنیا تک کے لئے منارہئ نور بن گئے۔ مولا نا شبلی نعما نی ؒاپنی شیر ہ ئ آفا ق تصنیف سیر ت النبی ؐمیں لکھتے ہیں کہ:

” اگر تم استا د اور معلم ہو تو صفہ کی در س گاہ کے معلم قد س کو دیکھو، اگر وا عظ اور نا صح ہو تو مسجد نبوی ؐ کے منبر پر کھڑ ے ہو نے والے کی باتیں سنو، اگر تنہا ئی اور بے کسی کے عالم میں حق کی منا دی کا فریضہ سر انجا م دینا ہو تو مکے کے صا دق اور امین کا اسو ہ ئ حسنہ تمہارے سا منے ہے “۔
در حقیقت اب کا میبا بی کا معیار صر ف تعلیمات مصطفی ﷺ ہیں۔

بقو ل شیخ سعد ی ؒ

“محال است سعد ی ؔکہ راہ ِصفا
تواں رفت جُز دَر پئے مصطفی ”

ترجمہ: اے سعد ی ! ؔ حضرت مصطفی ﷺ نے نقشِ قد م پر چلے بغیر راہِ صدق و صفا پر چلنا محا ل ہے۔

حضور اکر م ﷺ سارے زمانو ں اور سارے عہد و ں کے لئے معلم ہیں۔ آ پ ﷺ کا سب سے بڑا معجز ہ قر آ ن پا ک ہے جو ایسی مستند کتا ب ہے کہ جس کی حفا ظت کا ذمہ خو د خالقِ کائنات نے لیا ہے۔ آ پ ﷺ کی تعلیم و تر بیت محض اس دور اور عر بو ں کے لئے نہ تھی بلکہ رہتی دنیا تک کے لئے آ پ ﷺ معلم ہیں اور آ پ ﷺ کی تعلیم ساری دنیا کے لئے مشعلِ راہ ہے کیونکہ آ پ ﷺ اللہ کے آخر ی نبی ہیں اور آ پ ﷺ پر نا زل ہو نے والی کتا ب قر آن مجید اللہ کی آخر ی اور جد ید ترین آسمانی کتا ب ہے جو علم کا سر چشمہ ہے اور آ پ ﷺ گو یا چلتے پھر تے قر آن ہیں۔

نو عِ انسا ں را پیام آخریں
حاصلِ اورحمتہ للعا لمیں

(علا مہ اقبال ؒ)

آ پ ﷺ کا چلنا تعلیم، آ پ ﷺکا قیا م تعلیم، آ پ ﷺ اٹھنا بیٹھنا تعلیم، آ پ ؐ کا بولنا تعلیم، آ پ ؐ کی خاموشی تعلیم، آ پ ؐ کا سفر تعلیم، آ پؐ کا کھاناپینا کا م کر نا یہا ں تک کہ آرام تعلیم ایسا معلم نہ کبھی ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے۔جی ایل بیری (Gerald L-Berry)اپنی کتاب Religions of the world میں معلم انسانیت حضرت محمد ﷺ کو یو ں خرا جِ تحسین پیش کرتے ہیں کہ:

” یہ محمد ﷺ کی سیرت اور احا دیث ہیں جنہو ں نے اسلا م کو دنیا کی عظیم تہذ یبو ں میں ایک تہذ یب کی حیثیت دی۔ جس کے بعد دنیا کی کوئی تہذیب اسلا می تہذ یب کے اثرات قبو ل کئے بغیر نہ رہ سکی، انسانی تہذ یب کی تشکیل میں محمد ﷺ کا حصہ گرا ں بہا، نا قا بل فر امو ش اور دائمی ہے “۔

” شا یا ن نبی ؐکیسے کوئی مد ح سرا ہو
سرکار ؐ کی تو صیف کا حق کیسے ادا ہو

اُمّی کو ئی ایسا جو معلم ہو جہا ں کا
بے زر کوئی ایسا جو شہہ ہر دو سرا ہو ”

(سید اقبا ل عظیمؒ)

ح وال ہ ج ات

مقالہ جات:

٭ عہد نبوی کا نظامِ تعلیم از ڈاکٹر حمید اللہ صد یقی ؒ(مقالہ)۔

٭ رسو ل اللہ ﷺ کا فلسفہئ تعلیم از پر وفیسر عبد القد یر سلیم ؒ(مقا لہ)۔

کتب:

٭ ” مُعلم ” از ڈاکٹر وقار یو سف عظیمی۔

٭ نبی کریم ﷺ بحیثیت از پر وفیسر ڈاکٹر فضل الہی۔

٭ Prophet Muhammad (P.B.U.H as a Teacher by Dr. Syed Dawood Shah.

تحر یر
ارسلا ن اللہ خان

ولد یت
آفا ق اللہ خان

پتہ
مکا ن نمبر F/93یونٹ نمبر 8لطیف آباد، حیدر آباد سندھ

مو بائل
0336-3824288
Whatsapp: 0346-2804910

ای میل
khanarsalanullah@gmail.com
ختم شُد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
فاطمہ وہاب کا اردو کالم