آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

استعمار کی گرفت

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

استعمار کی گرفت اور ہماری فکری ذمہ داری

یہ سوال اب شدت کے ساتھ اٹھایا جانا چاہیے کہ کیا واقعی ہم ایک آزاد دنیا میں سانس لے رہے ہیں یا آزادی محض ایک خوش نما اصطلاح بن کر رہ گئی ہے۔ اکیسویں صدی میں استعمار نہ تو پرچم لہرا کر آتا ہے اور نہ ہی فوجی بوٹوں کی آواز کے ساتھ۔ آج استعمار خاموش ہے، مگر اس کی گرفت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ یہ قبضہ زمینوں پر نہیں بلکہ معیشت، پالیسی، تعلیم اور سوچ پر ہے۔

استعمار کی اصل تعریف یہ ہے کہ طاقتور قوتیں کمزور اقوام کو اس طرح اپنے مفاد کے تابع کر لیں کہ وہ بظاہر آزاد نظر آئیں، مگر ان کے بنیادی فیصلے کہیں اور طے ہو رہے ہوں۔ ماضی میں استعمار براہ راست تھا، آج بالواسطہ ہے۔ پہلے حکم گورنر ہاؤس سے آتا تھا، آج حکم عالمی اداروں کے دفتروں سے جاری ہوتا ہے۔

جدید استعمار کی سب سے واضح اور خطرناک شکل معاشی غلامی ہے۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے ترقی اور استحکام کے نام پر قرض فراہم کرتے ہیں، مگر ان قرضوں کے ساتھ ایسی شرائط منسلک ہوتی ہیں جو ریاست کی خودمختاری کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ بجٹ کیسے بنے گا، ٹیکس کس پر لگے گا، بجلی اور گیس کی قیمت کیا ہو گی، سبسڈی دی جائے گی یا نہیں، یہ سب فیصلے اب عوامی ضرورت یا قومی ترجیح کے بجائے قرض دہندگان کی شرائط کے تحت کیے جاتے ہیں۔

قرض دراصل صرف رقم نہیں ہوتا، یہ ایک مکمل نظام ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ ریاست کو مفلوج کر دیتا ہے۔ جب بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی میں چلا جائے تو تعلیم، صحت اور فلاح کے لیے کیا بچے گا۔ یوں عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بدحالی کی چکی میں پسنے لگتے ہیں اور حکمران بے بسی کا رونا روتے ہیں۔

لیکن جدید استعمار صرف معاشی نہیں، فکری بھی ہے۔ نصابِ تعلیم میں اپنی تاریخ کو مسخ کرنا، اپنے ہیروز کو متنازع بنانا اور دوسروں کے بیانیے کو ترقی کا معیار بنا کر پیش کرنا فکری غلامی کی واضح مثالیں ہیں۔ جب ایک نسل یہ مان لے کہ اس کا ماضی تاریک تھا اور اس کا مستقبل دوسروں کی تقلید میں ہے تو وہ نسل کبھی خود مختار فیصلے نہیں کر سکتی۔

میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم اس فکری استعمار کے سب سے طاقتور ہتھیار بن چکے ہیں۔ عالمی میڈیا یہ طے کرتا ہے کہ کون دہشت گرد ہے اور کون آزادی کا علمبردار۔ کون ظالم ہے اور کون مظلوم۔ سوشل میڈیا کے ذریعے رائے عامہ کو مخصوص سمت میں موڑا جاتا ہے، جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے اور اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ سچ اس قدر دھندلا دیا جاتا ہے کہ عام آدمی حقیقت تک پہنچنے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھتا ہے۔

ثقافتی یلغار اس پورے عمل کو مکمل کرتی ہے۔ زبان، لباس، خاندانی نظام اور مذہبی اقدار کو دقیانوسیت سے جوڑ دیا جاتا ہے، جبکہ مغربی طرزِ زندگی کو ترقی اور کامیابی کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قوم خود اپنی پہچان سے دستبردار ہونے لگتی ہے اور یہی استعمار کی سب سے بڑی فتح ہوتی ہے۔

یہ مان لینا بھی ضروری ہے کہ اس سارے نظام میں صرف بیرونی طاقتیں قصوروار نہیں۔ ہمارے اپنے حکمران طبقے، اشرافیہ، بیوروکریسی اور مفاد پرست سیاسی عناصر اس استعمار کے سب سے مضبوط ستون ہیں۔ اقتدار، مراعات اور ذاتی مفادات کے بدلے قومی خودمختاری کو گروی رکھ دینا ایک معمول بن چکا ہے۔ عوام سے قربانی مانگی جاتی ہے اور فیصلے بند کمروں میں طے ہوتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ کیا ہے۔ سب سے پہلے فکری آزادی کی ضرورت ہے۔ اپنی تاریخ، اپنی تہذیب اور اپنی شناخت پر اعتماد بحال کیے بغیر کوئی معاشی یا سیاسی اصلاح کارگر نہیں ہو سکتی۔ تعلیم کو صرف نوکری کے حصول کا ذریعہ بنانے کے بجائے شعور، تحقیق اور تنقیدی سوچ کا وسیلہ بنانا ہوگا۔

معاشی خود انحصاری کے بغیر آزادی محض ایک نعرہ ہے۔ مقامی صنعت کا فروغ، زرعی خود کفالت، غیر ضروری درآمدات میں کمی اور سادہ طرزِ زندگی وہ اقدامات ہیں جو قوموں کو قرضوں کی زنجیروں سے نجات دلا سکتے ہیں۔ اسی طرح سودی نظام پر سنجیدہ قومی مکالمہ ناگزیر ہے، کیونکہ سود ہمیشہ معاشی غلامی کو جنم دیتا ہے۔

قومی اتحاد اس جدوجہد کی بنیادی شرط ہے۔ فرقہ واریت، لسانیت اور اندرونی انتشار ہمیشہ استعمار کا پسندیدہ ہتھیار رہے ہیں۔ بٹی ہوئی قومیں آسانی سے کنٹرول ہو جاتی ہیں، جبکہ باشعور اور متحد قومیں بڑے سے بڑے دباؤ کا مقابلہ کر لیتی ہیں۔

آخر میں یہ بات سمجھ لینا ضروری ہے کہ جدید استعمار کا مقابلہ توپ اور ٹینک سے نہیں بلکہ شعور، کردار اور اجتماعی عزم سے کیا جاتا ہے۔ جس دن ہم نے اپنی سوچ کی حفاظت کرنا سیکھ لی، اس دن کوئی آئی ایم ایف، کوئی عالمی طاقت اور کوئی خفیہ معاہدہ ہمیں غلام نہیں بنا سکے گا۔ حقیقی آزادی کا سفر ذہن کی آزادی سے شروع ہوتا ہے اور وہیں جا کر مکمل ہوتا ہے۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button