آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکومل جوئیہ
ذرا سا زخم کو جونہی قرار آتا ہے
کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
ذرا سا زخم کو جونہی قرار آتا ہے
عقب سے پھر نیا یاروں کا وار آتا ہے
میں بن بلائے بھی ہوتی ہوں گفتگو میں شریک
تمہارا ذکر جہاں بار بار آتا ہے
میں ناخدا اسے کیسے کہوں گی میرے خدا
مجھے جو بیچ بھنور میں اتار آتا ہے
شکاریوں کی نظر سے بچی ہوئی ہوں میں
کبھی کبھی مجھے پنجرے پہ پیار آتا ہے
اسی کے شانے پہ سر رکھ کے رونے لگتے ہو
تمہارے سامنے جو غمگسار آتا ہے
کومل جوئیہ








