اردو غزلیاتبہزاد لکھنویشعر و شاعری

ترے عشق میں زندگانی لٹا دی

بہزاد لکھنوی کی ایک اردو غزل

ترے عشق میں زندگانی لٹا دی
عجب کھیل کھیلا جوانی لٹا دی

نہیں دل میں داغ تمنا بھی باقی
انہیں پر سے ان کی نشانی لٹا دی

کچھ اس طرح ظالم نے دیکھا کہ ہم نے
نہ سوچا نہ سمجھا جوانی لٹا دی

تمہارے ہی کارن تمہاری بدولت
تمہاری قسم زندگانی لٹا دی

اداؤں کو دیکھا نگاہوں کو دیکھا
ہزاروں طرح سے جوانی لٹا دی

غضب تو یہ ہے ہم نے محفل کی محفل
سنا کر وفا کی کہانی لٹا دی

جہاں کوئی دیکھا حسیں جلوہ آرا
وہیں ہم نے اپنی جوانی لٹا دی

نگاہوں سے ساقی نے صہبائے الفت
ستم یہ ہے تا دور ثانی لٹا دی

جوانی کے جذبوں سے اللہ سمجھے
جوانی جو دیکھی جوانی لٹا دی

بجھائی ہے پیاس آج دامن کی ہم نے
شراب نظر کر کے پانی لٹا دی

تمہیں پر سے بہزادؔ نے بے خودی میں
کیا دل تصدق جوانی لٹا دی

بہزاد لکھنوی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button