مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال
از پیر انتظار حسین مصور
ہم ایک ایسے تاریک سیاسی اور سماجی عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں ظرف، رواداری اور سچائی کا قحط پڑ چکا ہے۔ ہماری موجودہ سیاست اور صحافت کی منڈی میں اخلاقیات کا جنازہ اس قدر دھوم دھام سے نکالا جا چکا ہے کہ اب مخالف کی ذات پر کیچڑ اچھالنا، اس کی عزتوں کی دھجیاں اڑانا اور اس کی بیماری یا مصیبت پر جشن بنانا ہی کامیابی کا معیار قرار پایا ہے۔ کوئی موقع ایسا نہیں بچا جسے ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، گالیاں دینے اور اخلاق کی آخری حدیں پار کرنے کے لیے استعمال نہ کریں۔ ایسے گندے اور دم گھٹتے ہوئے ماحول میں جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں، تو ہمیں اپنے اسلاف اور ان کے مخالفین کے رویے دیکھ کر شدید شرمندگی اور ندامت کا احساس ہوتا ہے کہ ہم کس قدر پستی میں گر چکے ہیں۔
تاریخ کے آئینے میں ذرا اس دور پر نگاہ ڈالیے جب برصغیر میں آزادی کی جنگ لڑی جا رہی تھی۔ سیاسی اور نظریاتی اختلافات اتنے شدید تھے کہ ایک طرف ہندو مسلمانوں کے جداگانہ وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری تھے، تو دوسری طرف فرنگی حاکم اپنی سامراجی چالوں سے تفرقہ پھیلا رہا تھا۔ مگر اس تمام تر سیاسی مخالفت اور نظریاتی جنگ کے باوجود، اس دور کے رہنماؤں کا ظرف اور قلم کا معیار کتنا بلند تھا۔ جب 1921ء میں تحریکِ خلافت کے دوران مولانا محمد علی جوہر کو انگریز نے قید خانے میں ڈالا، تو ان کی زوجہ امجدی بانو بیگم نے آہ و زاری کے بجائے جدوجہد کی باگ ڈور سنبھالی۔ انہوں نے پردے کی پابندی کے ساتھ ساتھ پورے ہندوستان کا دورہ کیا اور فرنگی تسلط کے خلاف عوامی شعور کو بیدار کیا۔
اس دور کے سب سے بڑے سیاسی حریف اور کانگریس کے قائد موہن داس کرم چند گاندھی، جن سے مسلمانوں کے شدید سیاسی اختلافات تھے، انہوں نے امجدی بانو بیگم کی اس جرات اور حریت پسندی کو دیکھ کر آنکھیں نہیں چرائیں۔ گاندھی نے سیاسی مخالفت کو ایک طرف رکھ کر 29 نومبر 1921ء کو اپنے جریدے ‘ینگ انڈیا’ میں ‘ایک بہادر عورت’ کے عنوان سے ایک مکمل مضمون تحریر کیا۔ گاندھی نے ان کے اعتراف میں لکھا:
”بے شمار خواتین مجھ سے پوچھتی ہیں کہ جب ان کے شوہر یا بھائی قید کر لیے جائیں تو وہ کیا کریں۔ مگر جب میں بیگم محمد علی کو دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے تمام سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں۔ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ سچائی کے لیے کھڑی پردہ نشین خاتون کے سامنے طاقتور سامراج نہیں ٹھہر سکتا، اور وہ مردوں کے مردہ دلوں میں بھی زندگی کی روح پھونکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔”
یہ تھا وہ ظرف جہاں مخالف کی قابلیت، جرات اور ایثار کا اعتراف برسرِ عام اور کھلے دل سے قلم کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ قلم اس دور میں ذاتی بغض، کینہ اور ارزاں شہرت کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ سچائی کی گواہی کا نام تھا۔ مخالف کی شجاعت پر اسے داد دینا اور اس کے سچے جذبے کو تسلیم کرنا زندہ قوموں اور باظرف لوگوں کی پہچان ہوا کرتا تھا۔ قلم کار اور سیاست دان اتنے گرے ہوئے نہیں تھے کہ وہ محض اپنے سیاسی مفاد کے لیے حقائق کا گلا گھونٹ دیتے یا کسی کی عزت پر حملے کرتے۔
اب ذرا اپنے آج کی طرف لوٹ کر دیکھیے اور ہماری موجودہ سیاست اور میڈیا کا موازنہ اس دور سے کیجیے! آج کا منظر نامہ کیا ہے؟ آج ہماری سیاست کا کل اثاثہ بہتان تراشی، بدکلامی اور ایک دوسرے کو ذلیل کرنا رہ گیا ہے۔ اگر کوئی سیاسی مخالف کسی مصیبت، بیماری یا قید و بند کا شکار ہو جائے، تو ہماری صفوں میں ہمدردی یا ظرف کا مظاہرہ کرنے کے بجائے طنز کے تیر چلائے جاتے ہیں اور جشن منایا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے نظریے پر قائم رہتے ہوئے جرات کا مظاہرہ کرے، تو اس کی تعریف کرنا تو درکنار، اس پر غداری اور لفافے کے تمغے چسپاں کر دیے جاتے ہیں۔
ہماری صحافت اور سیاست نے مل کر ایک ایسا زہریلا کلچر پروان چڑھایا ہے جہاں سچائی کو مسخ کرنا اور اپنے حریف کو نیچا دکھانے کے لیے کسی بھی حد تک گر جانا عام بات بن چکی ہے۔ کوئی بھی واقعہ ہو، کوئی بھی سانحہ ہو، ہمارے سیاست دان اور تجزیہ نگار اسے فوراً اپنے ذاتی یا جماعتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں۔ سچ کی تلاش اور اصولوں کی پاسداری کا دور دور تک نام و نشان نہیں ملتا۔ جو قلم کبھی حق کی گواہی اور مخالف کے اخلاق کو سراہنے کے لیے اٹھتا تھا، آج وہ قلم صرف اپنے آقا کی خوشامد اور مخالف کی تذلیل کے لیے سیاہی اگلتا ہے۔
یہ موازنہ ہمارے ضمیر پر ایک تازیانہ ہے۔ امجدی بانو بیگم کا ایثار اور گاندھی کا اعتراف ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جنگیں اور سیاسی معرکے صرف ہتھیاروں یا تعداد سے نہیں، بلکہ اعلیٰ اخلاقی قدروں اور ظرف سے جیتے جاتے ہیں۔ جس قوم کی سیاست سے ظرف ختم ہو جائے اور جس کے قلم سے سچائی کی رمق نکل جائے، وہ قومیں بظاہر جتنے بھی نعرے لگا لیں، اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی اپنے گریبانوں میں جھانک کر اپنے رویوں کی اصلاح نہ کی، اور مخالفت کو دشمنی اور قلم کو گالی بنائے رکھا، تو تاریخ ہمیں ایک ایسے بے ہنگم اور بے اصول ہجوم کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اپنے اسلاف کی تمام تر اخلاقی و سیاسی میراث کو اپنے ہاتھوں سے تباہ کر دیا۔
پیر انتظار حسین مصور








