- Advertisement -

اے دوست ذرا دیکھ لے بے لوح قلم بھی

ایک اردو غزل از سیّدہ منوّر جہاں منوّر

اے دوست ذرا دیکھ لے بے لوح قلم بھی
کر ڈالا محبت نے فسانے کو رقم بھی

پھرتے ہیں لئے ہاتھوں میں ہم شمعِ محبت
"پاجائیں گے اک روز ترے نقشِ قدم بھی”

جو مجھ کو دکھاتا ہے سدا خشمگیں آنکھیں
وہ کاش کبھی مجھ پہ کرے چشمِ کرم بھی

اتنا نہ ہو مغرور نوازش پہ خدا کی
چھن جائیں گی آخر کو سبھی جاہ وحشم بھی

آداب محبت سے ذرا دیکھ عدو کو
الفت میں بدل جائے گا ظالم کا ستم بھی

اُس یوسفِ ثانی کی کشش کیسے بیاں ہو
دیکھیں جو صنم میرا تو جھک جائیں صنم بھی

حیران ہوں میں جادہ عرفان پہ چل کے
گم تیری حقیقت میں ہوئے دیر وحرم بھی

پروازِ تخیل جو رہے یون ہی منورؔ
آسکتے ہیں افلاک مرے زیرِ قدم بھی

سیدہ منوّر جہاں منوّر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از سیّدہ منوّر جہاں منوّر