A True Salam To Urdu Literature

Azaab-U-Naar

A Nazam By Injila Hamesh

عذاب النار
انجلا ہمیش

تجھ سے شکوے کی مجاز نہیں
بس ایک عاجزانہ ساسوال ہے
میرے مولا
ابراہیم تیرے برگزیدہ بندے
تونے دہکتی آگ کو ٹھنڈا کرکے
انہیں اپنے سایہ رحمت میں جگہ دی
تیرے اختیار کے آگے نمرود کے ارادے پسپا ہوئے
تونے دہکتی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کردیا
پر وہ جلتے بدن جو جل جل کے راکھ ہوگئے
وہ بے بس سانس لیتے وجود
جو برگزید تونہیں تھے
پر دل کے کسی گوشے میں تیرے ہونے کایقین رکھتے تھے
وہ آگ کیوں نہ ٹھنڈی ہوسکی
کون گناہ گار ہے،خطاکار کون ہے
جب اس کا فیصل تو ہے معبود
توتاریک دلوں میں بسنے والا ابلیس
اس قدر بااختیار کیونکر ہوجاتاہے
ایک مدت ہوئی مذ ہب حبسِ بے جامیں ہے
ہجومِ ناہنجار اپنی فتنہ سامانیوں کے ساتھ
ہر سو متحرک ہے
مساوات،متروک لایعنی لفظ
کہنے والے
بڑے خلوص سے کہہ گئے
کرم سے پہچانے جاؤ گے
کسی کو کسی پہ فوقیت نہیں
مگر سنو، جو تقی ہے
اسے تو منظر نامے سے باہر کردیا گیا
سوکہاں ملے گا تقوی
ٍ ہاں مگر اس سب کے بعد بھی
مجھے کامل یقین ہے
میرے معبود
ٍ کہ کائنات کے جس حصے میں بھی جہنم ہوگی
جب بھی حشر برپا ہوگا
تب تو ان کھالوں کو ضرور دہکتی ہوئی آگ میں پھینکے گا
جوزمین پر
اپنی بدمست طاقت کے زعم میں
جس کوچاہے گناہ گار ٹھہراتے رہے

  1. خالد کریوی says

    بہترین نظم ہے

  2. Injila Hamesh says

    شکریہ

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Recommended Salam
A Short Bio Of Ibn-e-Safi