آپ کا سلاماردو تحاریرتحقیق و تنقیدسہیل احمد صمیم

سوچاں دے سنگ

تحریر : سہیل احمد صمیم

پروفیسر صوفی عبدالرشید صاحب کا ہندکو شعری مجموعہ "سوچاں دے سنگ” ایک علمی و ادبی میراث۔

ہزارہ کی ادبی روایت میں پروفیسر صوفی عبدالرشید کا نام نہایت اہم اور معتبر مقام رکھتا ہے۔ وہ محض شاعر نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت ادبی شخصیت تھے۔ اردو شاعری ہو یا نثر، فارسی کا ذائقہ ہو یا ہندکو کی خوشبو ہر صنف میں انہوں نے اپنی علمی گہرائی اور فکری وسعت کا ثبوت دیا۔ فارسی اور اردو میں ان کے تحقیقی و تنقیدی مضامین، ادبی تبصرے اور بصیرت افروز تجزیے نہ صرف ہزارہ بلکہ قومی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھے گئے۔ ان کی تحریروں میں ایک عالمانہ وقار اور فکری توازن پایا جاتا ہے۔ جس نے ہزارہ کے علمی سرمایے میں گراں قدر اضافہ کیا۔

صوفی عبدالرشید صاحب کا ہندکو شاعری سے قبل اردو کا شعری مجموعہ ‘سخن سرمت’ داد و تحسین پا چکا تھا۔ ہندکو ادب کے حوالے سے بھی انہوں نے گراں قدر خدمات ہیں۔ انہوں نے نہ صرف ہندکو زبان و بیان کے حوالے کئی تبصرے کیے۔ بلکہ ان کی شاعری میں جہاں صوفیانہ رمز و نکتہ آفرینی ہے۔

ان کی اِسی تخلیقی کاوش کا ثمر ہے شعری مجموعہ "سوچاں دے سنگ”۔ یہ کتاب دراصل ان کی ہندکو علمی و ادبی زندگی کا نچوڑ ہے۔ کتاب کی ترتیب نہایت دلکش ہے:
ایک حمد، چار نعتیں، تین ملی نغمے، غزلیں اور نظمیں شامل ہیں۔ حمدِ باری تعالیٰ میں کائنات کے اسرار و رموز اور خالقِ حقیقی کی عظمت کو نازک احساس کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ نعتیہ کلام عقیدت و محبتِ رسول ﷺ سے سرشار ہیں اور ان میں ایک بلند علمی ذوق کے ساتھ درویشانہ انداز کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ ملی نغمے وطن کی محبت، دھرتی کی خوشبو اور ہزارہ کی تہذیبی وراثت کو زندہ کرتے ہیں۔ غزلوں اور نظموں میں فطرت کے حسین مناظر، کھیل اور تفریح کے رنگ، سماجی مسائل اور سیاسی شعور سبھی موجود ہیں۔ یہ کتاب بلاشبہ ہزارہ کی تہذیب و ثقافت، رسم و رواج اور حسنِ فطرت کے دلکش مناظر بھی جھلکتے ہیں۔ ان کی شاعری کو پڑھتے ہوئے قاری ایک ایسی دنیا میں داخل ہوتا ہے جہاں دانائی اور لوک دانش، سماجی شعور اور روحانی رفعت ایک دوسرے میں گھل مل کر ایک نیا ذائقہ عطا کرتے ہیں۔

اس کتاب کا ایک نمایاں پہلو چند فارسی رباعیات کے ہندکو منظوم تراجم ہیں۔ یہ ترجمے اس بات کا ثبوت ہیں کہ صوفی عبدالرشید صاحب کو زبانوں پر غیر معمولی دسترس حاصل تھی۔ فارسی اور ہندکو کے مابین ایک ادبی پل قائم کر کے انہوں نے اپنی ہمہ جہتی کو اور زیادہ نمایاں کیا۔
یہاں میں اپنی ایک ذاتی یاد کا ذکر کرنا چاہوں گا جو اس کتاب کو میرے لیے اور بھی قیمتی بنا دیتی ہے۔ میری صوفی عبدالرشید صاحب سے صرف پانچ چھ ملاقاتیں ہی رہیں۔ مگر انہی ملاقاتوں میں ان کی عظمت، انکساری اور علمی بصیرت نے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔ کاش زیادہ ملاقاتیں ہوتیں اور زیادہ سیکھنے کا موقع ملتا اور زیادہ فیض حاصل ہوتا۔
یہ کتاب انہوں نے 2013 میں ایک نعتیہ مشاعرے کے موقع پر ماڈرن ایج پبلک اسکول کی پرانی بلڈنگ (نزدکشمیر کلاتھ) میں عنایت کی۔ وہ لمحہ میری یادوں کا اثاثہ ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد جو ذوق و شوق، جستجو اور فکری تازگی حاصل ہوئی، وہ آج تک میرے دل و دماغ میں تازہ ہے۔

"سوچاں دے سنگ” محض ایک شعری مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ہزارہ کی فکری و ادبی شناخت کا روشن مینار ہے۔ اس کے اوراق میں صرف اشعار نہیں بلکہ ایک عہد کی دھڑکن اور صدیوں پرانی صوفیانہ روایتوں کی خوشبو یکجا ہے۔ پروفیسر صوفی عبدالرشید کی یہ تصنیف اُن کے وسیع مطالعے، باریک بینی اور صوفیانہ مشرب کی آئینہ دار ہے۔ ہر نظم اور ہر شعر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ شاعر نے لفظوں کو صرف ترتیب نہیں دیا بلکہ اُن میں اپنے تجرباتِ زندگی، اپنے مشاہدات اور اپنی روح کی تڑپ شامل کی ہے۔
یہ کتاب ہزارہ کی تہذیبی روح کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ اُردو اور ہندکو ادب کے سنگم کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔ پروفیسر صوفی عبدالرشید کی شخصیت اور ان کا علمی و ادبی ورثہ اہلِ ذوق کے لیے ہمیشہ ایک قیمتی سرمایہ رہیں گے۔ ان کی تحریریں محض موجودہ نسل کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی یہ کتاب ایک مشعلِ راہ ہے۔ یہ وہ سرمایہ ہے جس سے نئی فکری جہتیں ابھریں گی اور ہزارہ کے لوگ اپنے ماضی، اپنی روایات اور اپنی روحانی وراثت پر مزید فخر کر سکیں گے۔

چند اشعار دیکھیں
پانڑیے اندر مچھ ماری
تاری اتے تاری
اُدھروں مونہہ مگرمچھ کھولے
اِدھروں جال شکاری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں مسافر، توں میں مسافر
سارا طور سفر دا
سمجھاں جساں ٹھار ٹھکانڑاں
اوہ فريب نظر دا
۔۔۔۔۔۔۔۔
رخ کے دلے اتے پہخدے انگار جاگدے
ساری راتی تیرے ہجر دے بیمار جاگدے

توں سینیں تے ساری کائنات سیندی اے
توں جاگنیں تے باغ گلزار جاگدے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس ویلے ملنڑیں دا نیٹا ہوندے اے
کوئی اساڈے راہے بچ آنڑ کھلوندا اے

باہر نکلاں بدل کڑ کڑ گجدا اے
اندر بہواں کوٹھا ٹپ ٹپ چوندا اے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رباعی (خیام کہ خیمہائے حکمت)

تنبو حکمت دے سیڑ دے سڑاندے رہیے آں
سڑ سڑ کے غماں دی اگ بجھاندے رہیے آں
تہاگے عمری دئ جوں ترٹ کے ٹہٹھے
مفتی وچ اسی وکدے وکاندے رہیے آں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوشیاں ڈر ڈر کہر توں نسنڑ
غماں پائے کہیرے
گلی بزاراں ، چانڑ ہووے
اندر کہپ ہنیرے

آخر میں یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پروفیسر صوفی عبدالرشید کے درجات بلند فرمائے۔ ان کی علمی و ادبی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے فیض کو آنے والی نسلوں کے لیے باعثِ رہنمائی اور روشنی بنائے۔ ان کی یاد ہمیشہ دلوں میں زندہ رہے گی اور ان کا کلام ہمیشہ قاری کو فکر، محبت اور ایمان کی دولت عطا کرتا رہے گا۔ آمین۔

سہیل احمد صمیمؔ

post bar salamurdu

سہیل احمد صمیم

سہیل احمد صمیم (اردو اور ہندکو شاعر/ادیب)۔ تعلیمی قابلیت: بی بی اے آنرز (ایچ آر ایم)، ایل ایل بی اور ایم اے اردو گولڈ میڈلسٹ۔ شائع شدہ کتاب کا نام: اِلی النُور (نعتیہ شاعری)۔ زیرِ طبع کتب۔ 1. لایزال (دوسرا نعتیہ مجموعہ )۔ 2. خواب کہاں جاتی ہیں (اردو شعری مجموعہ ) 3. ہزار میں فارسی زبان و ادب کی روایت (تحقیق) دیگر حوالہ جات کالم نگاری : ادبی، تحقیقی اور تخلیقی مضامین مختلف ادبی رسائل اور پلیٹ فارمز میں شائع ہو تے رہتے ہیں۔ آپڑی ہندکو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے بانی بھی ہیں جہاں ہندکو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button