آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہمحمد یوسف برکاتی

تقوی کی اعلی مثال

ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
دراصل تقوی کے لغوی معنی ڈر ، خوف ، پرہیز گاری ، بچنا ، اور احتیاط کرنا ہے شرعی اعتبار سے تقوی ایک انسان کے دل کی اس کیفیت کا نام ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے ڈر اور خوف سے گناہوں سے بچا کر رکھے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی نافرمانی سے بچاتے ہوئے اور اس انسان کو نیکی اور رب العزت کی اطاعت کی طرف ابھارنے کا دوسرا نام تقوی ہے یہ اس انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیاں حرام اور ناجائز چیزوں کے لیئے رکاوٹ کا کام کرتی ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی کئی سورتوں میں اس کا ذکر کیا جیسے
وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-
ترجمعہ کنزالایمان ۔۔
اے لوگو!اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ۔ (پ4 النساء 1)
بالکل اسی طرح احادیث کی کم و بیش کئی کتابوں میں بھی تقوی کی تاکید اور متقی کی تعریف کی گئی ہے جیسے ایک موقع پر جب آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو”۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں جب اسلام کی تاریخ کو پڑھتے ہیں ہمارے اسلاف کی زندگیوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ایسے ایسے متقی و پرہیز گار لوگوں کی فہرست نظر آتی ہے جن کے بارے میں پڑھ کر ہمیں ایک طرف فخر محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہمارے اور ہماری تاریخ کا حصہ ہیں جبکہ دوسری طرف افسوس یہ ہوتا ہے کہ آج کے اس معاشرے میں ہمیں دور دور تک ایسا کوئی اللہ تعالیٰ کا بندہ نظر نہیں آتا جس میں تقوی کی گہرائی صاف اور واضح دکھائی دیتی ہو یا پھر ہماری آنکھیں ایسے لوگوں کو دیکھنے اور پرکھنے کے قابل نہیں آیئے میں آپ کو ہماری تاریخ اسلام میں سے ایک ایسا واقعہ بتاتا ہوں جسے پڑھ کر آپ کہہ اٹھیں گے کہ ” یہ ہوتا ہے تقوی ”
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ تاریخ اسلام میں ہمیں تقوی اور پرہیز گاری ایک سے بڑھ کر ایک مثال ملتی ہے جیسے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں آپ کی عادت مبارک تھی کہ آپ رات کو گشت کیا کرتے تھے اسی طرح ایک دفعہ گشت کے دوران ایک دروازے کے قریب پہنچے تو ماں بیٹی کی گفتگو سنی یہ ماں بیٹی دودھ بیچ کر اپنا گزارا کرتی تھیں ماں نے بیٹی سے کہا کہ بیٹا اٹھو اور دودھ میں پانی ملا دو تاکہ صبح ہم اسے اچھے منافع پر بیچ سکیں بیٹی نے انتہائی بہادری اور خوف خدا سے کہا کہ امی جان حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دودھ میں پانی ملانے سے منع فرمایا ہے ماں نے بے پرواہی سے کہا کہ ابھی آدھی رات کا وقت ہے نہ عمر رضی اللہ عنہ دیکھ رہے ہیں اور نہ ان کا کوئی پہریدار تم دودھ میں پانی ملا دو لیکن بیٹی نے جو جواب دیا وہ تقوی کی ایک لازوال مثال بن گیا اس نے کہا امی جان حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نہیں دیکھ رہے تو کیا ہوا میرا رب تو دیکھ رہا ہے میں ایسے دھوکے والا کام ہرگز نہیں کروں گی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر کھڑے یہ ایمان افروز گفتگو سن رہے تھے آپ رضی اللہ عنہ کو اس بچی کا جذبئہ تقوی اتنا پسند آیا کہ صبح اس گھر کا پتہ کرواکر اس بچی کا نکاح اپنے بیٹے حضرت عاصم رضی اللہ عنہ سے طے کروادیا تقوی کی اس عظیم برکت سے ایسی نسل چلی کہ بعد میں یہیں سے حضرت عمر بن عبد العزیز جیسے جلیل القدر اور عادل خلیفہ نے جنم لیا تقوی کے اس واقعہ سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ تنہائی میں گناہ سے بچنے کے لیئے تقوی کی کیا اہمیت ہے یعنی تنہائی میں گناہ سے بچنے کا دوسرا نام تقوی ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں آیئے اب اسی تقوی پر ایک اور خوبصورت اور دل پر گہرہ اثر کرنے والا واقعہ جو ایک حدیث میں موجود ہے یعنی حدیث پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں جو احادیث کی معروف کتاب ” ترمذی شریف ” میں موجود ہے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ کے سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل میں ” کفل” نامی ایک شخص تھا جو دن رات برائی میں پھنسا رہتا تھا ۔اپنی نفسانی خواہشات کا غلام تھا ایک دن اس ایک ضرورت مند اور مجبور عورت کو 60 دینار دیکر زناکاری کے لیئے آمادہ کرلیا پھر جب وہ تنہائی میں اس عورت کے قریب جانے لگا تو وہ عورت بے اختیار رونا شروع ہوگئی اس کے چہرے کا رنگ فق ہوگیا کفل پریشان ہوگیا کیونکہ اس سے پہلے ایسی صورتحال کا کبھی اسے سامنا نہیں کرنا پڑا تھا اس نے اس عورت سے حیرانی سے پوچھا کہ اس وقت یہ ڈر اور رونا کیسا ؟ اس پاکدامن اور شریف لڑکی نے روتے ہوئے جواب دیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے اور اس کے عذاب سے خوف آرہا ہے اللہ رب العزت نے اس کام کو حرام قرار دیا ہے میں اپنی ضرورت سے مجبور ہوکر اس کام کے لیئے تیار تو ہوگئی مگر اللہ تعالیٰ کے خوف نے مجھے بے چین کیا ہوا ہے دیکھو دو گھڑی کے لطف کی وجہ سے یہ ہماری جان کا مستقل روگ بن جائے گا اے کفل اس بدکاری سے باز اجا میری اور اپنی جان پر رحم کر آخر قیامت میں اللہ کو حساب بھی دینا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں آج سے پہلے کفل کا ایسی صورتحال سے کبھی سامان نہ ہوا تھا اس لڑکی کی ایسی پرتاثیر اور سچی باتوں نے کفل پر بڑا گہرا اثر ڈالا وہ زندگی میں پہلی بار اپنے برے ارادے پر نادم اور شرمندہ ہونے لگا عذاب الٰہی کی خوفناک شکلیں اس کی نظروں کے سامنے گھومنے لگیں اور وہ اپنی سیاہ کاریاں بدکاریاں یاد کرکے رونے لگا قبر کے سانپ اور بچھو اس نظروں کے سامنے پھرنے لگے اور سوچنے لگا کہ مجھے تو ان عذابات سے زیادہ ڈرنا چاہئے اس عورت نے تو گناہ کیا ہی نہیں ہے اور اس طرح جہنم کے خوف سے کانپ رہی ہے جبکہ میری تو پوری عمر ہی ایسے کاموں میں گزر گئی اس لیئے اس وہ کہنے لگا کہ اے نیک دل عورت تو گواہ رہنا میں آج تیرے سامنے اپنے ان کاموں سے سچی توبہ کرتا ہوں کہ آئیندہ اپنے رب تعالیٰ ناراضگی کا کوئی کام نہیں کروں گا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا تصور بھی دل میں نہ لائوں گا جو رقم میں نے تمہیں دی ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے واسطہ تمہیں دی اس کے بعد اس کفل نے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار کی کہ یا الٰہی میرے گناہوں کو معاف کردے ان سے در گزر فرما میری خطائیں معاف کردے مجھے اپنے دامن عفو میں چھپالے مجھے جہنم کے عذاب سے بچالے۔ سرکار مدینہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ اسی رات کفل کا انتقال ہوگیا اور صبح لوگ دیکھتے ہیں کہ اس کے دروازے پر لکھا ہوا ہے ۔ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ غَفَر الْکِفل یعنی اللہ نے کفل کے گناہ معاف کر دئیے۔۔ ( ترمذی )
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس واقعہ میں ایک عورت کا حال بیان کیا گیا ہے جو مجبور ہے ابھی گناہ کیا نہیں مگر خوف خدا اور اس گناہ پر ہونے والے عذاب کے بارے میں سوچ کر کس قدر کانپ رہی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا اور عذاب کا خوف محض اللہ رب العزت کے ڈر اور اس کے تقویٰ کی وجہ سے ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے سورہ اطلاق کی آیت 2 میں ارشاد فرمایا
وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ (2)
ترجمعہ کنزالایمان ۔۔۔
اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا۔۔ ( سورہ اطلاق 2 )
اب وہ عورت اس گناہ سے ہر صورت بچنا چاہتی تھی اللہ رب العزت نے نہ صرف اسے اس گندے اور حرام کام سے نجات بخشی بلکہ اس کے اس رویئے اور حسن کردار کی وجہ سے کفل جیسے سیاہ کار گناہ گار اور بدکار انسان کو بھی ہدایت نصیب فرمائی اس کے علاوہ اس کفل کی بخشش کا بھی قدرتی طور پر اعلان کردیا یہ تقوی ہی ہے جو انسان کو ایسے ہی جذبات سے آگاہ کرتا ہے پھر وہ کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرات نہیں کرسکتا اور رب العزت ایسے ہی لوگوں کے گناہوں کو معاف کرکے انہیں اجر عظیم کی خوشخبری عطا فرماتا ہے ۔
بہترین زادِ راہ تقویٰ – المجلد 1 – الصفحة 111 – جامع الكتب الإسلامية
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں تقوی کیا ہے اگر ہمیں اس بات کا اندازہ لگانا ہو تو اپنے اسلاف کی زندگیوں کا مطالعہ کریں آپ کو ایک سے بڑھ کر ایک تقوی کی اعلی مثال ملے گی حضرت امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے تقوی کی ایک مثال میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں آپ علیہ الرحمہ کپڑے کی تجارت کرتے تھے۔ ایک بار آپ کے ساتھی تاجر نے آپ کا کپڑا بیچا جس میں ایک تھان عیب دار تھا۔ آپ علیہ الرحمہ کے ساتھی نے خریدار کو عیب بتائے بغیر کپڑا فروخت کر دیا۔ جب آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ کو بہت افسوس ہوا، کیونکہ خریدار کا نام و پتہ معلوم نہیں تھا، اس لیے آپ نے اس ساری کمائی (تقریباً تیس ہزار درہم) کو بطورِ صدقہ بغیر ثواب کی نیت کے غریبوں میں تقسیم کر دیا تاکہ آپ کا کوئی بھی روپیہ حرام یا مشکوک مال میں شامل نہ رہے ۔ یہ ہے تقوی اللہ تعالیٰ کا خوف پرہیز گاری کی ایک اعلی مثال ۔ اور اسی طرح ہمارے امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کی جن کے بارے میں ہمارے علماء لکھتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے زمانے میں ایک مرتبہ کوفہ میں کسی شخص کی بکری کا بچہ کھو گیا یہ سن کر امام اعظم علیہ الرحمہ نے پورے سات سال بکرے کا گوشت نہیں کھایا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس بکرے کا گوشت ہی میرے پیٹ میں چلا جائے یہ ہے تقوی اور اسے کہتے ہیں تقوی کی اعلی مثال اسی طرح حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس ایک خاتون حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ حضور میں چرخہ چلاتی ہوں اور عام طور پر رات کو کام کرتی ہوں جس کے لیئے مجھے دیا جلانا پڑتا ہے لیکن میں زیادہ تیل استعمال کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی اور اکثر کام کرتے ہوئے میرا دیا بجھ جاتا ہے میرے پڑوس میں بھی دیا جلا ہوا ہوتا ہے جس کی روشنی میری چھت تک آتی ہے لہذہ کبھی کبھی میں اس روشنی سے چرخہ چلاتی ہوں لیکن مجھے احساس ہوا کہ اس نے یہ روشنی اپنے لیئے کی ہوئی ہے اور اگر اس روشنی کو میں اپنے کام کے لیئے استعمال کرتی ہوں تو بروز محشر اللہ تعالیٰ مجھ سے پوچھے گا نہیں ؟ اس خاتون کی یہ بات سن کر امام سکتے میں آگئے اور سوچنے لگے کہ اتنا تقوی اور خوف خدا میں نے کسی میں نہیں دیکھا پھر فرمایا کہ آپ نے وہ روشنی اس پڑوسی سے مانگی نہیں اور نہ ہی وہ آپ کے کام کو دیکھ کر روشنی جلارکھی ہے وہ روشنی خود آپ کے صحن میں آتی ہے لہذہ آپ اسے استعمال کرسکتی ہیں لیکن اگر آپ کا دل مطمعن نہیں ہے تو اسے ہرگز استعمال نہ کریں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس مختصر واقعہ میں ہمیں دو باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں ایک تو اس عورت کا تقوی یعنی اللہ تعالیٰ سے اتنا خوف کہ بروز محشر رسوائی کا ڈر جبکہ دوسرا یہ کہ اتنے مشکل مسئلے کو اتنی آسانی سے حل کرنے کا سہرا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کو جاتا ہے قربان جائیں پہلے کے اہل ایمان مسلمانوں پر اور ہمارے بزرگوں کی اعلی دانشمندی پر جنہوں نے ہمارے لیئے تقوی کی اعلی مثالیں قائم کیں اور درس دیا کہ اللہ تعالیٰ کے قرب اور اس کے حبیب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کے حصول کا واحد ذریعہ تقوی و پرہیزگاری ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں زندگی میں سکون چاہیئے ہو عذاب قبر سے نجات چاہیئے ہو بروز محشر رسوائی سے بچنا ہو تو دل میں خوف خدا پیدا کرنا ہوگا رب العزت کا ڈر پیدا کرنا ہوگا اور اس کے لیئے تقوی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا جیسا کہ ہم نے ان واقعات میں تقوی کی جو اعلی مثالیں دیکھی وہ ہمارے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیئے کافی ہیں آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مجھے سچ لکھنے ہمیں پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا ۔

محمد یوسف میاں برکاتی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button