- Advertisement -

نشے میں چاند تارے جھوم کر سَر دُھن رہے ہیں

سعد ضؔیغم کی ایک اردو غزل

نشے میں چاند تارے جھوم کر سَر دُھن رہے ہیں
زمیں پر ہم وحیداؔحمد سے نظمیں سُن رہے ہیں

تجھے کس بات کی جلدی ہے اے خوشبو کے جھونکے
ابھی تو ہم ترے رستے سے کانٹے چُن رہے ہیں

یہ میرے زخم جِن پر اپنے لَب رکھے ہیں تو نے
ہمیشہ سے یہاں پر وقت کے نَاخُن رہے ہیں

میں پھولوں سے تِرے بارے میں باتیں کر رہا ہوں
پرندے میری باتیں مُسکرا کر سُن رہے ہیں

دکھائیں تو کسے اس جمگھٹے میں سعد ضؔیغم
ہم اپنے دل میں جو خوابوں سے دنیا بُن رہے ہیں

سعد ضؔیغم

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ڈاکٹر وحید احمد کی ایک اردو نظم