شفیق الرحمٰن: اردو مزاح کا لازوال ستارہ
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
اردو ادب میں کچھ نام ایسے ہیں جو اپنی منفرد تخلیقات، دلچسپ اسلوب اور انسانی جذبات کی باریک عکاسی کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ شفیق الرحمٰن بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ وہ نہ صرف مزاح نگار اور افسانہ نگار تھے بلکہ ایک ماہر طبیب بھی تھے، جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے اردو ادب کو نئی زندگی بخشی۔ ان کی تحریریں قہقہوں کا سبب بنتی ہیں اور انسانی رویوں، معاشرتی تضادات اور روزمرہ زندگی کی دلچسپ عکاسی کرتی ہیں۔
شفیق الرحمٰن کی پیدائش 9 نومبر 1920 کو راولپنڈی میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے طب میں مہارت حاصل کی اور ایک ماہر طبیب کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کے طبی تجربات نے ان کے ادبی کام میں انسانی نفسیات اور معاشرتی حقیقتوں کو نمایاں کرنے میں مدد دی۔ یہی تجربات ان کے مزاح کو حقیقت کے قریب اور دلکش بناتے ہیں۔
انہوں نے اردو ادب میں مزاحیہ افسانوں اور مضامین کے ذریعے اپنی منفرد شناخت بنائی۔ ان کے مشہور افسانوی مجموعے جیسے کرنیں، شگوفے، مد و جزر، پرواز، حماقتیں اور مزید حماقتیں اردو ادب
کے سنگ میل شمار ہوتے ہیں۔ ان کی تحریریں نہ صرف قہقہوں کا سبب بنتی ہیں بلکہ انسانی نفسیات، معاشرتی رویوں اور روزمرہ زندگی کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔ افسانوں میں مزاح کے ساتھ زندگی کے تلخ پہلوؤں کی عکاسی بھی نمایاں ہے۔
ان کے افسانوں میں کردار انسانی کمزوریوں، معاشرتی تضادات اور روزمرہ معمولات کو ہلکے پھلکے انداز میں پیش کرتے ہیں، جس سے قاری محظوظ ہونے کے ساتھ سوچنے پر بھی مجبور ہوتا ہے۔ ایک مشہور اقتباس ان کے افسانے حماقتیں سے ہے:
"ننھا روز صبح آفس پہنچتا اور ایک ہی سوچ میں لگا رہتا کہ آج کے دن کتنی حماقتیں کی جائیں گی۔ ہر چہرہ جو اسے دیکھتا، اسے ایک نئی کہانی کی نوید دیتا، اور ہر ملاقات ایک نئے مذاق کی شروعات تھی۔ زندگی کا اصل مزہ چھوٹے چھوٹے حادثات میں چھپا ہے، بس اسے دیکھنے والا دل چاہیے۔”
یہ اقتباس شفیق الرحمٰن کی تحریروں کی بنیادی خصوصیت کو ظاہر کرتا ہے: چھوٹے معمولی حالات سے مزاح پیدا کرنا اور قاری کو ہنسانے کے ساتھ زندگی کے معمولات پر غور کرنے پر مجبور کرنا۔
ان کا اسلوب سادہ، رواں اور دلکش تھا۔ انہوں نے عام فہم زبان استعمال کی، جس سے ان کے افسانے ہر طبقے کے قاری کے لیے قابل فہم ہیں۔ ان کے افسانوں میں طنز و مزاح کا ایسا امتزاج ہے جو ہنسی کے ساتھ زندگی کے پیچیدہ پہلوؤں پر غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ کرداروں کی نفسیات کی گہری عکاسی کے ذریعے وہ انسانی جذبات، خواہشات اور کمزوریوں کو قاری کے سامنے ایسا پیش کرتے کہ قاری ان سے جڑتا ہے۔
ان کی ادبی خدمات کو حکومت پاکستان نے بھی سراہا اور انہیں 2001 میں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا۔ علاوہ ازیں، ادبی محافل اور تقریبات میں ان کی شرکت اور تحریروں کی پذیرائی نے ان کے نام کو اردو ادب میں لازوال بنا دیا۔
ذاتی زندگی میں بھی وہ محنتی، سادہ اور ملنسار شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے مشاہدات اور زندگی کے تجربات ان کے افسانوں میں جھلکتے ہیں، جس سے تحریریں حقیقت کے قریب تر اور دلچسپ بن جاتی ہیں۔ ان کا مزاح نہ صرف قاری کو ہنساتا بلکہ زندگی کے تلخ پہلوؤں سے بھی روشناس کراتا، تاکہ قاری ان سے سبق سیکھے اور اپنی زندگی میں ان کا اطلاق کرے۔
شفیق الرحمٰن اردو ادب کے ایک درخشاں ستارے تھے جن کی روشنی آج بھی مدھم نہیں ہوئی۔ ان کے افسانے، مضامین اور کردار ہر عمر کے قاری کے دلوں میں زندہ ہیں اور اردو ادب کے شائقین کے لیے ہمیشہ دلچسپی اور تفریح کا سبب رہیں گے۔ ان کی ادبی خدمات کو یاد رکھنا اور نئی نسل تک پہنچانا ہر اردو شائق کے لیے ضروری ہے۔
یوسف صدیقی








