اردو افسانہ: نقشِ تنقید از جمیل احمد عدیل
تبصرہ : فراق مجروح یوسفزے
یہ کتاب "صریر پبلی کیشنز” نے شائع کی ہے۔ کتاب کے اوراق اور پروف پر خاصی محنت کی گئی ہے ـــ لیکن پھر بھی کتاب میں پروف ریڈنگ کی غلطیاں مشت از خروار کے مصداق موجود ہیں ـــ اور ٹائیٹل کَوَر تو لاجواب ہے، قیمت بھی نہایت مناسب ہے یعنی تنقیدی کتابیں صریر پبلی کیشنز سے پچاس فی صد رعایت سے بہ آسانی مل جاتی ہے۔ میں صریر پبلی کیشنز کی اس کدوکاوش کو سراہتا ہوں اور مستقل میں بھی تنقیدی کتابیں چھاپنے کا متمنی ہوں۔ اب زیر تبصرہ کتاب کی اور آتے ہیں۔ ہذا کتاب عصر حاضر کے افسانوی مجموعوں کا بہترین تنقیدی تجزیہ ہے۔ کتاب میں شمس الرحمان فاروقی صاحب کا شاہکار "شعر شور انگیز” کا روش اپنایا گیا ہے یعنی فاروقی صاحب کی کتاب شروع ہوتے ہی ابتدائی اوراق پر فصاحت و بلاغت، شعر و شاعری اور ادب کے متعلق بعض حوالات یا یوں سمجھ لیجیے کہ اقوال درج ہیں ٹھیک اسی طرح کتاب مذکور میں بھی ابتدائی صفحات پر افسانے کے متعلق ڈاکٹر خالد سہیل، راجندر سنگھ بیدی اور ڈاکٹر اقبال آفاقی کی آرا مندرج ہیں۔
کتاب دو حصوں میں منقسم ہے پہلا حصہ "افسانے کا فن اور روایت” کے عنوان سے مرقوم ہے۔ عدیل صاحب نے اردو افسانے کے فن میں محض کہانی ہی کو موضوع بنایا ہے باقی اجزا کو قلمبند کرنے سے گریز کیا ہے لیکن یاد رہے کہ کہانی افسانے کا محض جزو ہے اور موصوف نے جزو کو کل پر زیادہ ترجیح
دی ہے۔ اس کے بعد روایت پر سیر حاصل گفتگو ہو سکتی تھی مگر جناب عالی نے طائرہ نگاہ ڈالنے کی زحمت کی ہے۔ میرے مطابق عدیل صاحب نے عدیل بننے سے کام نہیں لیا اعنی جو بحث "انگارے” اور انگارے کے افسانہ نگاروں، پریم چند پر کی گئی ہے وہ باقی افسانہ نگاروں کے متعلق ندارد۔ سجاد حیدر یلدر، سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی اور احمد ندیم قاسمی کو محض چند سطور میں سمیٹا گیا ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی افسانہ نگار ہیں جو کہ اس تسلسل کی کڑیاں ہیں لیکن انہیں یکسر قلم انداز کیا گیا ہے۔ عدیل صاحب کو چاہیے تھا کہ ان کا فقط نام ہی اس ذیل میں شامل کر لیتے تو بہتر ہوتا۔ میرے ناقص خیال میں روایت کو کم از کم منشا یاد تک بیان کرنے کی ایک کوشش کرنی چاہیے تھی۔ میں بذاتِ خود روایت پر کی گئی بحث سے مطمئن نہیں ہوں۔
اس کے بعد کتاب کا دوسرا حصہ ” آئینۂ تعبیر” کے عنوان سے شروع ہوتا ہے اور اس حصے میں تقریباً چودہ افسانوی مجموعوں اور افسانہ نگاروں کا تذکرہ شامل ہے اور آخر میں اسلم سراج الدین کی کاوش”منشا یاد: شخصیت اور فن” پر بحث کی گئی ہے۔ جمیل احمد عدیل کا اسلوب تصنع سے بھرا پڑا ہے یعنی انہوں نے اتنے مشکل الفاظ کا استعمال کیا ہے اور ساتھ ہی جو انگریزی کے الفاظ کا بوچھاڑ کیا ہے اس کی وجہ سے یہ تجزیہ عام قاری کے مطالعے سے پرے ہے یعنی میں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ ایک ناقد نے دوسرے نقاد کے لیے یہ نقش تنقید پیش کی ہے میرے جیسے معمولی ذہن کے قاری کے لیے اس پر تصنع کتاب سے استفادہ کرنا محال ہے۔ جناب عالی نے عمداً بعض ایسے اصطلاحات لائیں ہیں جو کہ اردو میں مستعمل نہیں ہے۔ جیسے” افسانوی کے بجائے "افسانی” اسی طرح "افسانی مجموعے اور افسانی تصنیف” وغیرہ۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ انگلش کی کثرت سے استعمال بار خاطر ہے اور بعض ایسے الفاظ برتتے گئے ہیں کہ ان کا متبادل اردو میں موجود ہے مثلاً ” بائی دی وے، پوائنٹ آؤٹ” وغیرہ۔ کتاب کے بعض سطور میں انگریزی اتنی جھاڑی گئی ہے کہ اس کے طفیل نثر مبہم ہو گئی ہے اور کنایہ کا زیادہ استعمال نے بھی نثر کو مبہم کرنے میں مدد دی ہے۔ جس کی بابت ساری باتیں میرے سر سے اوپر گزریں ہیں۔ میں یہ سب نقاد کی کمزوریوں میں گردانتا ہوں اور ان کی اردو کو "اردو نما انگریزی” یا انگریزی نما اردو” کہنے پر مجبور ہوں۔ آخری تین چار تجزیوں میں وہ اسلوب نظر نہیں آتا جس کا حقیر فقیر نے درجہ بالا سطور میں حوالہ دیا ہے۔ خیر پھر بھی میں یہ کہنے پر مجبور محض ہوں کہ یہ کتاب عوام کے لیے نہیں بلکہ خواص کے لیے لکھی گئی ہے۔
دوسرے حصے (آئینۂ تعبیر) میں سب سے پہلے منشا یاد کا افسانوی مجموعہ "خواب سرائے” کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ یہ تنقید نہیں بلکہ مدح معلوم ہوتی ہے، عدیل صاحب کی اس تحریر سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا نقاد منشایاد سے غایت درجہ متاثر ہے اور ان کی مدح سرائی کرتے نہیں تھکتا۔ بعد میں ان کے پورے مجموعے سے فقط چند افسانوں پر سطحی بحث کی گئی ہے۔ ہاں مگر ایک افسانہ "تیاری” پر تفصیلاً رائے دی گئی ہے۔ عدیل صاحب نے ایک سطر میں یہ بھی قبول کیا ہے کہ یہ دراصل ان پر تنقید نہیں ہے ہاں مگر ایک تاثر ضرور ہے۔ بعد ازاں "اس کائنات میں کسی جگہ” (محمود ظفر اقبال ہاشمی کا افسانوی مجموعہ) میں موجود افسانوں کا محض تاثرات بیان کیے گئے ہیں۔ افسانوں پر وہ تنقید نہیں ملتی جس کی توقع مجھے تھی یا جس تنقید کے ہذا افسانے حقدار نظر آتے ہیں۔ بس اجمالی طور پر ان افسانوں کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ یہ محمود ظفر اقبال ہاشمی کی کتاب کا تبصرہ پیش کیا جا رہا ہے۔ "چوتھی ریاست” کا تجزیہ باقی دو کی بہ نسبت عمدہ ہے لیکن میرے ادبی مذاق کے عین مطابق نہیں ہے۔ بہت سی چیزوں پر گفتگو ہوسکتی تھی مگر صاحبِ نقشِ تنقید نے یہ زحمت نہیں اٹھائی۔ اسی طرح "دستک” (از محمد عاصم بٹ) کے افسانوں کا ذکر بھی محض چند سطور پر محیط ہے یعنی اتنا بڑا افسانوی مجموعہ جس میں کل اٹھارہ افسانے شامل ہیں اس پر اوپری بحث کی گئی ہے۔ ڈاکٹر امجد طفیل کا افسانوی مجموعہ "مچھلیاں شکار کرتی ہیں” میں کل پچیس افسانے ہیں لیکن ناقد موصوف نے "کھوٹ”، "پہلا تاثر” اور "کھینچے ہے مجھے کفر” کو موضوع بحث بنایا ہے۔ باقی بائیس افسانوں کا نام تک لکھنا گوارا نہیں سمجھا۔
محمد جاوید انور کا افسانوی مجموعہ ” سرکتے راستے” میں سے "نیرنگی”، "دروازہ”، "مہا بندر”، "ٹائیٹل سٹوری”، "سرکتے راستے” اور "فیک” کا سرسری تذکرہ پیش کیا گیا ہے۔ "نہالِ حیرتِ عشق” کے عنوان سے نسیم سید کے افسانوں پر موصوف نے نہایت دلفریب تجزیہ کیا ہے لیکن یہاں موصوف کے انداز بیان کو ریزہ کاری کہنا بجا ہوگا۔ اس تجزیے میں "چراغِ آفریدم”، "نہالِ حیرتِ عشق”، "بگ فیٹ” اور "جس تن لاگے” افسانوں پر طائرانہ قلم دوڑایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ افسانہ نگارہ کی طرز نگارش پر بھی سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ نقاد موصوف نسیم صاحبہ سے اتنے متاثر نظر آتے ہیں کہ انہیں خواتین افسانہ نگاروں کا "منشا یاد” کہا ہے۔”مونگرے کے پھول” (پرویز انجم) پر محترم نقاد نے خوب لکھا ہے اور پرویز انجم کے شاعرانہ نثر سے ہمارا نقاد کافی متاثر نظر آتا ہے۔ ” جہاں ٹیپو گرا تھا” افسانے کا انہوں نے خوب تجزیہ کیا ہے اور مونگرے کے پھول پر لکھا پرویز صاحب کا پیش لفظ "خودنوردی” پر بھی عدیل صاحب نے عمدہ اظہار خیال کیا ہے اور شاعرانہ نثر کو انجم صاحب کا خاصا ٹھہرایا ہے۔
سیمیں کرن کا افسانوی مجموعوں کا تجزیہ”دھوپ عہد کے افسانے” کے عنوان سے کیا گیا ہے اس تجزیے میں”طاہرہ سنو” افسانے کا نہایت دلفریب تجزیہ پیش کیا گیا ہے عدیل صاحب نے یہ ثابت کرنے کی سعی کی ہے کہ افسانہ نگارہ جنسی نفسیات سے خوب واقف ہے۔ "دو چشمی ہجر” کے تجزیے سے مرعوب ہوں اس لیے کہ اس میں جتنی لطیف و باریک تہیں تھی صاحبِ نقشِ تنقید نے اس سے پردہ کشائی کی ہے۔ ان افسانوں کے علاوہ "مربعوں کی دائرہ کہانی” کا تجزیہ بھی عمدہ ہے لیکن تصنع کی وجہ سے ساری باتیں ہوا ہوگئی۔ "جلتی بے خبری سے کرن کا جنم”، "شجر ممنوعہ کے تین پتے”، "محرم گوش”، "طرب آشنائے خروش”، "بھیڑیا جاتی” اور "ہم زبان” بھی اس ذیل میں شامل ہیں۔ ہذا تجزیوں کے بعد ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ کے دو افسانوی مجموعوں پر بحث کی گئی ہے۔ جس میں "سونے کی چڑیا کانچ کا مقدر” کے افسانوں میں”آدم کی بیٹی درندوں کا چنگل”، "پہچان” اور "خاک شناسائی” کو بہترین افسانے قرار دیے گئے ہیں اور آخری دو کو تو سہل ممتنع کی بہترین مثال کہا گیا ہے۔ "مندیڑ” افسانے کا تجزیہ کتاب میں موجود تمام افسانوں سے عمدہ کیا گیا ہے۔ اور عنوان کے متعلق نقاد موصوف نے جو صراحت پیش کی ہے وہ واقعی قابل داد ہے۔ ساتھ ہی موصوف نے افسانہ نگارہ کی ڈکشن کے متعلق جو رائے قائم کی ہے میں بھی اس رائے سے متفق ہوں۔ موصوفہ کا ایک اور افسانوی مجموعہ”دھوپ کی دیوار” ہے۔ تجریدی افسانہ”ابھی کل ہی تو آئے ہو” کا سرسری جائزہ اور مرکزی کردار کا نفسیاتی پہلو اجمالاً پیش کیا گیا ہے۔ اسی مجموعے سے ” میں تو چھٹی پر تھا!” پر سطحی لکھتے ہوئے بہترین افسانہ کہا گیا ہے۔ ساتھ ہی افسانہ”دعا تلے حروف” کا بھی چند سطور میں وضاحت کی گئی ہے۔
دردانہ نوشین خان کا افسانوی مجموعہ "ریت میں ناؤ” پر پیش کردہ جائزہ میرے ذوق سلیم کو اپیل نہیں کرتا۔ اس لیے کہ یہ مجموعہ کل انیس افسانوں پر مشتمل ہے۔ لیکن محترم نقاد نے معدود چند پر طائرانہ نگاہ ڈالی ہے یعنی "فروماندگی” افسانے کو محترمہ دردانہ کا ماسٹر پیس کہا گیا ہے لیکن اس طرح کا جائزہ نہیں لیا ہے جو سیمیں کرن کے افسانہ "مندیڑ” کا لیا گیا ہے۔ یہ حال "بے غیرت کہیں کی” بھی ہے۔ "چندن پیڑ” کی وضاحت بھی یوں کی گئی ہے جیسے کہ کوئی تجریدی آرٹ۔ "رقص آشفتہ سری”، "تکون کی چوتھی سمت”، "استخارہ”، "نیت” اور "مجھے سنگسار کرو” کا فقط نام درج کیے گئے ہیں۔ ہذا کتاب پر موجود پیش لفظ "چنگاریوں کی بارات” پر بھی اظہار خیال کیا گیا ہے اور میرے حساب سے یہ اس کتاب میں حشووزائد محسوس ہوتا ہے۔ دردانہ نوشین خان افسانہ نگارہ کے ساتھ ساتھ ناول نگارہ، کالم نگارہ اور تبصرہ نگارہ بھی ہیں لیکن عدیل صاحب نے یہ تذکرہ نہیں کیا ہے۔ محترمہ کے محولہ افسانوی مجموعے کے علاوہ "پہلا زینہ” اور "ریگِ ماہی” بھی شائع ہوئے ہیں اور "اندرجال” کے علاوہ ایک اور ناول "صُفہ” کے عنوان سے بھی منظر عام پر آ چکا ہے۔ عدیل صاحب نے محترمہ کو ملکِ عرب کا "شاعرِ محکک” سے تشبیہ دیتے ہوئے جو کچھ ان کے طلسماتی اسلوب کے بارے میں کہا ہے حقیر فقیر اس رائے سے سو فیصد اتفاق رکھتا ہے۔ یہ بات مسلم ہے کہ صاحبِ نقشِ تنقید نے دردانہ نوشین خان کے فن و فکر کے بارے بہت احسن لکھا ہے اور بجا لکھا ہے۔
منزہ احتشام گوندل کا افسانوی مجموعہ "آئینہ گر” کا جائزہ لیتے ہوئے محض "آخری خواہش” اور "قیدی” کا تذکرہ سطحی طور پر کیا ہے اور ساتھ ہی اس مجموعے پر منزہ صاحبہ کا پیش لفظ "اندھیر نگری” پر بھی تھوڑا بہت لکھنے کی زحمت کی ہے۔ یہ بھی واضح کرنے کی سعی کی گئی ہے کہ محترمہ نے نسائیت کے بجائے مردوں کے متعلق فکشن تخلیق کی ہے۔ اس کے بعد محمد جواد کے افسانوی مجموعہ "بوڑھی کہانی” کے تجزیے میں عدیل صاحب نے محمد جواد کے متعلق لکھا ہے اور ہذا مجموعے کا تذکرہ کیا ہے۔ ایجاز و اختصار ان کے افسانوں کا خاصا بتایا گیا ہے اور "گریگری”، "درد آشنا”، "عادت” اور "بوڑھی کہانی” پر دو دو تین تین سطور پر مبنی جائزہ لیا ہے۔ "رشید امجد کے منتخب افسانے” مرتب از احمد اعجاز کے تجزیے میں جنابِ عالی نے تو پہلے علامت کی تعریف کی ہے اور بعد ازاں رشید امجد کے بارے میں اور پھر مرتب موصوف کے متعلق اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔ پھر سرسری طور پر کتاب پر مبحث ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس مجموعے میں کل بائیس افسانے مع تنقیدی تجزیوں موجود ہیں لیکن نقاد صاحب نے فقط”ست رنگے پرندے کے تعاقب میں” افسانے کا نام لے کر اور اسے سہل ممتنع کا شاہکار کہہ کر جان چھڑائی ہے۔ اسلم سراج الدین کی کاوش "منشایاد شخصیت اور فن” پر نقاد صاحب نے بہت کچھ سپرد قلم کیا ہے۔ لیکن یہاں بھی موصوف منشایاد صاحب کا چیلا بن کر بار بار ان کی ثنا خوانی کرتا نظر آتا ہے۔ اور اسلم سراج الدین کو فرحت اللہ بیگ کا نظیر قرار دیا ہے۔ اسلم صاحب کی اس کاوش کی نقاد صاحب نے کھل کر داد دی ہے اور بجا دی ہے۔ لیکن زیر تبصرہ کتاب میں چوں کہ افسانوی مجموعوں پر تنقید کی گئی ہے تو اس ذیل میں اس کتاب کا تذکرہ بھونڈا سا محسوس ہوتا ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ مجھے جو کمیاں اس کتاب میں محسوس ہوئی وہ ہر کسی کو محسوس ہو شاید یہ کتاب بعض قارئین کے مطابق مکمل ہو لیکن ہم نے اپنے اساتذہ سے سیکھا ہے کہ کوئی بھی تنقید مکمل نہیں ہو سکتی۔ میں نے اس کتاب سے بہت کچھ سیکھا ہے جن افسانہ نگاروں کے بارے میں، میں نےجو معلومات اخذ کی ہے ان کے متعلق مجھے پہلے علم نہیں تھا۔ ان سب کمیوں کے باوجود یہ کتاب یعنی "اردو افسانہ: نقش تنقید” اردو ادب میں ایک بیش بہا اضافہ ہے۔
فراق مجروح یوسفزے







