آپ کا سلاماردو تحاریرتحقیق و تنقیدسہیل احمد صمیممقالات و مضامین

امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

تحریر: سہیل احمد صمیم

جناب امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ "کم و بیش” ( احساسات کا آئینہ، لفظوں کا روشن چراغ)
کبھی کبھی لفظ خاموش ہو کر بھی بولتے ہیں۔اور کسی ایک شعر میں پوری زندگی سما جاتی ہے۔ اور کبھی کوئی شاعر اپنے اندر کربِ زمانہ، خوابوں کی روشنی، رشتوں کی حدت، اور تنہائی کی نمی لیے یوں سامنے آتا ہے جیسے صحرا میں یکایک کوئی چشمہ پھوٹ پڑے۔
ایسا ہی ایک چشمہ ہمارے درمیان ہمارے سینیئر دوست، شاعر، امتیاز الحق امتیاز کی صورت میں موجود ہے ۔ ایک ایسا نام جو خاموشی سے دلوں میں گھر کرتا ہوا واہموں کی دھند کو چیرتا ہوا حقیقت کی تہوں میں اترتا ہے، اور جو روایت کے آئینے میں رنگِ جدیدیت کی تصویر دکھاتا ہے۔
اُن کا شعری مجموعہ "کم و بیش” یہ ایک جذبوں کی ایسی دستاویز جو وقت کے کاندھوں پر رکھی گئی ہے تاکہ آنے والے لمحے اسے چھو کر محسوس کر سکیں۔ یہ صرف غزلوں اور نظموں کا مجموعہ نہیں، یہ ایک شاعر کی خاموشی، درونِ دل کی صدائیں، اس کی شکستگیاں اور جمالیاتی خوابوں کا عکس ہے۔
امتیاز الحق امتیاز کی شاعری صرف لفظوں کی ترتیب نہیں، یہ زندگی کی تعبیر ہے۔ ان کے ہاں جو گہرائی ہے، جو سادگی میں پوشیدہ پیچیدگی ہے، وہ آج کے شور شرابے والے ماحول میں نایاب سی لگتی ہے۔
ان کے اشعار میں کربِ جدائی سے لے کر قربت کے لمس تک، خوابوں کی شکست سے امید کی جھلک تک، سب کچھ ہے — مگر دکھاوے سے عاری، مصنوعی لَے سے پاک، اور خالص دل سے نکلے ہوئے لفظوں کی طرح سچے۔
ذرا یہ شعر دیکھیے:
ہم جیسے دیکھتے ہیں یہ ویسے دکھائی دیں
سیڑھیاں پاؤں پانی میں اُترے دکھائی دیں

یہ شعر محض منظر کشی نہیں، یہ شعور کی سطح پر جمالیاتی حیرت ہے۔ شاعر نہ صرف پانی میں سیڑھیاں دیکھتا ہے بلکہ قاری کو بھی دکھا دیتا ہے، اور ہم سب لمحے بھر کو اس دھند میں کھو جاتے ہیں جہاں “چراغ بھی اندھیرے دکھائی دیتے ہیں۔”
غزل کے ساتھ ساتھ ان کی نظمیں بھی بھرپور اظہار کا وسیلہ ہیں۔ نظم "نارسائی” میں شاعر نے ایک ایسا جذبہ بیان کیا ہے جو لفظ بننے سے پہلے ہی سینے میں کہیں تحلیل ہو گیا تھا:
"وہ لفظ
جو میں نے اب تک
خود سے بھی چھپا کر
سینہء راز میں رکھا تھا
اب تجھ کو
بتانا چاہتا ہوں
لیکن
وہ لفظ
مجھے اب یاد نہیں”

ایسا اظہار وہی کر سکتا ہے جو جذبات کی گہرائیوں میں ڈوبا ہو، اور جسے درونِ خانہِ دل کی خامشیوں سے گفتگو کرنا آتا ہو۔
امتیاز الحق امتیاز کے ہاں رشتہِ انسان کا حسن بھی دکھائی دیتا ہے اور ان کی پیچیدگی بھی۔ اُن کی شاعری میں ماں کی ممتا سے لے کر وطن کی محبت تک، عشقِ مجازی سے فکری تشنگی تک، ہر رنگ موجود ہے۔ ان کے ہاں روایت کا احترام بھی ہے اور جدید سوالات کی گونج بھی۔
یہ عمر بھر کی مشقت کے بعد مجھ پہ کھلا
کہ میں نے اپنے لیے تو کمایا کچھ بھی نہیں

یہ شعر صرف ایک فرد کی بات نہیں کر رہا، یہ پوری تہذیب کی آواز ہے۔ وہ تہذیب جو ساری عمر دوسروں کے لیے جیتی ہے، اور جب پلٹ کر خود کو دیکھتی ہے تو خالی ہاتھ رہ جاتی ہے۔
"کم و بیش” صرف ایک کتاب نہیں، اردو ادب میں ایک نیا اضافہ ہے ایسا اضافہ جو وقت کے ساتھ اور نکھرتا جائے گا۔ امتیاز الحق امتیاز ہزاروں شاعروں میں وہ منفرد نام ہے جسے نہ صرف پڑھا جانا چاہیے بلکہ محفوظ بھی کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ وہ لفظوں سے چراغ جلاتے ہیں، اور ان چراغوں کی روشنی میں ہم خود کو پہچانتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب اردو شاعری کی فکری اور جمالیاتی روایت کو مزید وسعت دے گی، اور امتیاز الحق امتیاز اپنی فکری بلندی اور شعری ہنر سے آنے والے وقت میں اور بھی نمایاں ہوں گے۔
آخر میں کتاب سے چند انتخاب:
ہم جیسے دیکھتے ہیں یہ ویسے دکھائی دیں
سیڑھیاں پاؤں پانی میں اُترے دکھائی دیں
اُس دُھند میں بھی راہ ترے گھر کی دیکھ لوں
جس دُھند میں چراغ بھی اندرے دکھائی دیں
یہ مرحلہ بھی آتا ہے آخر جدائی میں
جب تختیاں مکانوں کی کتبے دکھائی دیں
سارا کمال نیچے پڑے آئینے کا ہے
ہم آسمان کی سمت جو اُڑتے دکھائی دیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظم: نارسائی
ایک لفظ
جو میں نے اب تک
خود سے بھی چھپا کر
سینہء راز میں رکھا تھا
اب تجھ کو
بتانا چاہتا ہوں
لیکن
وہ لفظ
مجھے اب یاد نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل عجب موج میں آ کر دیکھا
اس کو تصویر بنا کر دیکھا
روز میں دیکھنے جاتا تھا جِدھر
اُس طرف آج بھی جا کر دیکھا
کیا خبر میں ہی دوبارہ بن جاؤں
چاک کو اور گھما کر دیکھا
دوسرا شخص نکل آیا ہے
خود کو خود سے جو ہٹا کر دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب ہوں بے چین معذرت کے لیے
ہو گئی تھی کسی سے تو تکرار
دائرے کھینچتا ہوں پاؤں سے
بن گیا ہوں جنون میں پکار
تجھے کو میں نے ابھی چھوا بھی نہیں
زخم ہونے لگے تیرے رخسار
میری محنت مرا حوالہ ہے
نسل در نسل ہے یہی کردار
تو نے دیکھا تو سامنے آیا
میرے اندر چھپا ہوا فکار
ہوتے ہوتے یہ امتیاز ہوا
لکھتے لکھتے قلم ہوا تلوار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اعداد و شمار میں نہیں تھے
ہم لوگ قطار میں نہیں تھے
وہ پھول دکھائی دے رہے ہیں
جو پھول بہار میں نہیں تھے
ممکن ہے وہ آئے ہوں یہاں پر
ہم اپنے مدار میں نہیں تھے
اپنا دکھ بانٹنے تھے مجھ سے
پچھلی جو ڈار میں نہیں تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ اور بات کہ ہم نے بچایا کچھ بھی نہیں
ہمارے ذمے کسی کا بقایا کچھ بھی نہیں
وطن کی گلیوں کو دیکھو کبھی محبت سے
ہر ایک چیز ہے اپنی پرایا کچھ بھی نہیں
یہ عمر بھر کی مشقت کے بعد مجھ پہ کھلا
کہ میں نے اپنے لیے تو کمایا کچھ بھی نہیں
تعلقات کی نویتیں الگ ہیں یہاں
دکاں داری میں اپنا پرایا کچھ بھی نہیں
پڑی ہوئی ہے مری خاک میرے بالوں میں
کہ اپنی مٹی سے میں نے بنایا کچھ بھی نہیں
ہوا نہیں مجھے احساس رائیگانی تک
گنوایا کے عمر بھی گویا گنوایا کچھ بھی نہیں
نہ استعارہ، نہ کنایہ، نہ کوئی قول حال
کہ اپنے لفظوں میں میں نے ملایا کچھ بھی نہیں
یہ اہتمام عجب تم نے امتياز کیا
بجز چراغِ اظہار جلایا کچھ بھی نہیں
……………………….
ایک اک نقش میں دل رکھا ہے جاں رکھی ہے
ہم کو معلوم ہے کیا چیز کہاں رکھی ہے
میں اُسے کام میں لانے کا ہنر جانتا ہوں
میری آواز میں جو آہ و فغاں رکھی ہے
تم جسے باعثِ تمکین و شرف کہتے ہو
وہی دنیا مری ٹھوکر پہ یہاں رکھی ہے
کوئی گا کب نظر آتا ہے نہ ہم جنس کوئی
میں نے بے سود یہاں اپنی دکاں رکھی ہے
………………..
نظم: کب!
اے زمانے
چکلدار چیزوں کو تُو دیکھتا ہے
اور کھنک دار آوازیں سنتا ہے تُو
میرے مِلے گِلے سے پٹتے نظر نہیں آ رہے
میرے اشعار بھی کیا سنائی نہیں دے رہے
میری آواز بھی کیا سنائی نہیں دے رہی
تیرے معیار بدلیں گے کب
تیرے سورج کی کرنیں
خلات اور جھوٹ پھروں میں
یک وقت اتریں گی کب
کب یہ منظر نمائی نظر آئے گا
………………….
ایک ذرہ ہو میسر تو ستارہ کرنا
مجھے غربت نے سکھایا ہے گُزارہ کرنا
آپ کرتے ہیں سمندر میں بھنور کی تشکیل
ہمیں آتا ہے سمندر کو کنارہ کرنا
ایک ہلکا سا تبسم بھی مجھے کافی ہے
میں نے کیا باغِ شہرِ فتنہ و بخارا کرنا
میں ترا آپ ہوں اور آپ کا تا ہوں ابھی
بات اس لہجے میں مجھ سے نہ دوبارہ کرنا

سہیل احمد صمیم

post bar salamurdu

سہیل احمد صمیم

سہیل احمد صمیم (اردو اور ہندکو شاعر/ادیب) قابلیت: بی بی اے آنرز (ایچ آر ایم)، ایل ایل بی اور ایم اے اردو شائع شدہ کتاب کا نام: الان نور علی النور (نعتیہ شاعری) آنے والی کتابیں (لیازل: (دوسری نعتیہ کتاب)۔خواب کہاں جاتی ہیں: غزل اور نظم) میرا ادبی کام بنیادی طور پر ادبی تحقیق کے ساتھ شاعری اور ادب بالخصوص نعت پر مرکوز ہے۔ میرے ادبی مضامین اور کالم مختلف اخبارات، رسائل اور ادبی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں جہاں وہ ادب، زبان، ثقافت، تاریخ اور عصری سماجی مسائل پر ایک مخصوص اور دلفریب اسلوب کے ساتھ لکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button