اردو غزلیاتتیمور حسن تیمورشعر و شاعری

بہاؤں گا نہ میں آنسو نہ مسکراؤں گا

تیمور حسن تیمور کی ایک اردو غزل

بہاؤں گا نہ میں آنسو نہ مسکراؤں گا

خموش رہ کے سلیقے سے غم مناؤں گا

کروں گا کام وہی جو دیا گیا ہے مجھے

میں خواب دیکھوں گا اور خواب ہی دکھاؤں گا

ادھوری بات بھی پوری سمجھنی ہوگی تمہیں

میں کچھ بتاؤں گا اور کچھ نہیں بتاؤں گا

میں آج تک نہیں مانا ہوں تیری دنیا کو

تو مان جائے تو میں اس کو مان جاؤں گا

اسی سوال نے سونے نہیں دیا شب بھر

تو مجھ سے پوچھے گا کیا اور میں کیا بتاؤں گا

تری کہانی میں رکھوں گا خود کو کچھ ایسے

میں داستاں میں نئی داستاں بناؤں گا

یہ مصلحت ہے مری بزدلی نہیں تیمورؔ

جہاں ضروری ہوا حوصلہ دکھاؤں گا

تیمور حسن تیمور

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button