آپ کا سلاماردو غزلیاتسید عدیدشعر و شاعری

جیسے پانی کی روانی کو بھنور کاٹتے ہیں

ایک عمدہ غزل از سید عدید

جیسے پانی کی روانی کو بھنور کاٹتے ہیں
ایسے کچھ لوگ مری راہ گزر کاٹتے ہیں

ایک تصویر بناتے ہیں زمیں پر پہلے
اور پھر بعد میں تصویر کا سر کاٹتے ہیں

پیار کا دیتے ہیں ہم اور محبت سے جواب
زہر کا زہر سے ہم لوگ – اثر کاٹتے ہیں

زرد راتوں میں کبھی غور کیا ہے تم نے
چاند کے نوحے شبِ غم کا جگر کاٹتے ہیں

ڈھل گئی عمر تو بچوں نے کہا ہے بابا !
لوگ ایندھن کےلیے سوکھے شجر کاٹتے ہیں

ہم کو پردیس میں یاد ان کی ستاتی ہے بہت
اور جب لوٹ کے آتے ہیں تو گھر کاٹتے ہیں

ہم جو چپ سادھ کے بیٹھے ہیں تری محفل میں
لفظ کی دھار سے قاتل کی نظر کاٹتے ہیں

دشتِ افلاس کی ان بانجھ زمینوں کی قسم
ہم شجر بوتے ہیں تو لوگ – ثمر کاٹتے ہیں

تم عدید اپنے دکھوں کے نہ سناو قصے
درد کی فصل تو ہم شام و سحر کاٹتے ہیں

سید عدید

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button