مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
نعمان علی بھٹی کی ایک اردو تحریر
انسانی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ علم اور مطالعہ نے ہی اقوام کو ترقی کی راہوں پر گامزن کیا ہے۔ جس معاشرے میں کتاب سے رشتہ مضبوط ہوتا ہے وہاں فکری پختگی، شعور اور برداشت جیسی خوبیاں پیدا ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں مطالعہ کی روایت دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے، جس کے اثرات ہماری نئی نسل پر واضح طور پر نظر آتے ہیں۔
مطالعہ صرف امتحان پاس کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ انسان کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ کتاب انسان کو سوچنے، سمجھنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ جب کوئی نوجوان ادب، تاریخ، سائنس اور فلسفہ جیسی مختلف موضوعات کی کتابیں پڑھتا ہے تو اس کا ذہن وسیع ہوتا ہے اور وہ زندگی کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔
آج کے دور میں موبائل فون اور سوشل میڈیا نے ہماری توجہ کو مختصر اور منتشر کر دیا ہے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد اپنا قیمتی وقت غیر ضروری سرگرمیوں میں صرف کر دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مطالعہ کی عادت کمزور پڑ رہی ہے بلکہ سنجیدہ علمی گفتگو بھی معاشرے میں کم ہوتی جا رہی ہے۔
اس صورتحال میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے۔ اگر گھر میں کتابوں کا ماحول ہو اور بچوں کو چھوٹی عمر سے کہانیاں، ناول اور معلوماتی کتب پڑھنے کی ترغیب دی جائے تو ان میں مطالعہ کی عادت خود بخود پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں لائبریریوں کو فعال بنانا اور طلبہ کو مطالعہ کی اہمیت سے آگاہ کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ادب کا مطالعہ انسان میں حساسیت اور انسان دوستی کو فروغ دیتا ہے۔ جب کوئی شخص مختلف ادیبوں اور شاعروں کی تحریریں پڑھتا ہے تو وہ معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے لگتا ہے۔ یہی شعور آگے چل کر ایک بہتر شہری اور ذمہ دار انسان کی تشکیل میں مدد دیتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو دوبارہ کتاب کی طرف متوجہ کریں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ فکری طور پر مضبوط ہو تو ہمیں مطالعہ کی ثقافت کو فروغ دینا ہوگا۔ گھر، اسکول اور معاشرے کے ہر فرد کو اس مقصد کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
کتاب انسان کی بہترین دوست ہے۔ یہ نہ صرف علم فراہم کرتی ہے بلکہ انسان کو تنہائی میں ایک مثبت اور تعمیری مصروفیت بھی دیتی ہے۔ اگر ہم نے اپنی نوجوان نسل کو کتاب سے جوڑ دیا تو یقیناً ہمارا مستقبل زیادہ روشن اور باشعور ہو سکتا ہے۔
نعمان علی بھٹی









نعمان صاحب، آپ نے آج کے دور کے سب سے بڑے المیے یعنی کتاب سے دوری پر بہت گہری بات کی ہے۔ معاشرے میں شعور بیدار کرنے کے لیے ایسی تحریریں اشد ضروری ہیں۔ بہترین کاوش
بہت شکریہ آپ کی محبت اور حوصلہ افزائی کا۔
یہی ہماری کوشش ہے کہ تحریر کے ذریعے معاشرے میں شعور اور مطالعہ کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔ اگر میری یہ کاوش قارئین کو کتاب سے دوبارہ جڑنے کی طرف مائل کر دے تو اسے اپنی خوش نصیبی سمجھوں گا۔
آپ کی قیمتی رائے اور دعاؤں کا ہمیشہ منتظر رہوں گا۔
خیر اندیش
نعمان علی بھٹی