صمود فلوٹیلا: عالمی بے حسی کے سائے میں انسانیت کا قتلِ عام
بین الاقوامی پانیوں میں ‘گلوبل صمود فلوٹیلا’ پر ہونے والی وحشیانہ یلغار اور اس کے بعد دنیا بھر سے آئے پرامن سفیرانِ انسانیت پر ڈھائے جانے والے مظالم نے عصرِ حاضر کے عالمی نظام کے اخلاقی دیوالیہ پن پر حتمی مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ یہ سانحہ محض کسی عسکری حد سے تجاوز یا قزاقی کا عام واقعہ نہیں، بلکہ یہ اس تاریک عہد کا نقطۂ آغاز ہے جہاں بین الاقوامی قوانین کی بساط کو طاقت کے نشے میں چور قوتوں نے یکسر الٹ کر رکھ دیا ہے۔ ایک ایسی سسکتی ہوئی محصور آبادی کے لیے، جو بنیادی طبی سامان اور معصوم بچوں کے دودھ کی بوند بوند کو ترس رہی ہو، جب یہ امدادی کارواں سمندری لہروں کو چیرتا ہوا آگے بڑھا تو اس کا راستہ روکنے کے لیے وہ ریاستی مشینری پوری فرعونیت کے ساتھ متحرک ہو گئی جو خود کو تمام تر زمینی ضابطوں اور انسانی اقدار سے بالاتر سمجھتی ہے۔ اس تاریخی قافلے میں شامل ڈاکٹر، دانشور، بین الاقوامی صحافی اور کٹھن حالات کے آزمودہ امدادی کارکن، جن کا تعلق دنیا کے درجنوں مختلف ممالک سے تھا، جب اس جبر کا شکار ہوئے تو ان کے ساتھ حراستی مراکز میں کی جانے والی درندگی نے ظلم کی نئی تاریخ رقم کی۔ رپورٹس گواہ ہیں کہ ان نہتے انسانوں کو بدترین جسمانی اذیتوں سے گزارا گیا، نہایت قریب سے ربڑ کی گولیاں مار کر ان کی ہڈیاں توڑی گئیں اور تنہائی کے تاریک خلیوں میں رکھ کر ان کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا گیا۔ لیکن اس پورے المیے کا سب سے بڑا المیہ وہ بہیمانہ تشدد نہیں، بلکہ انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والے عالمی اداروں اور مصلحت پسند طاقتوں کی وہ مجرمانہ خاموشی اور دانستہ چشم پوشی ہے جو اس درندگی کو مسلسل تحفظ فراہم کر رہی ہے۔
یہ منظم خاموشی دنیا کو ایک انتہائی ہولناک اور تاریک سچائی کی طرف لے جا رہی ہے، یعنی عالمی برادری کا ایک ایسے انتہا پسندانہ نظریاتی اور جغرافیائی توسیع پسندی کے سامنے بلا چون و چرا گھٹنے ٹیک دینا، جس کی بنیاد ہی انسانیت کی نسلی تفریق پر قائم ہے۔ اس وحشیانہ رویے کے پیچھے ایک مخصوص، خود ساختہ بالادستی کا الہیاتی اور سیاسی فریم ورک کارفرما ہے، جس کے تحت مخصوص فاشسٹ حلقے غیر یہودیوں کو انسانوں کا ایک ادنیٰ اور کمتر درجہ دیتے ہیں۔ یہ سوچ دنیا کی باقی تمام آبادی کو ثانوی درجے پر کھڑا کرتی ہے، جہاں ان کی نظر میں اپنے تزویراتی مقاصد اور علاقائی ہوس کے سامنے جنیوا کنونشنز اور دوسرے خود مختار ممالک کے قوانین کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ جب بین الاقوامی امدادی کارکنوں اور سفید پوش طبی عملے کو غیر جانبدار سفیروں کے بجائے جنگی ہدف بنا کر پیش کیا جائے، تو یہ اس امر کا کھلا اشتہار ہے کہ ان کے نزدیک اپنی زمین کی توسیع کا خبط دنیا کے تمام انسانی معاہدوں سے بڑا ہے۔ جب ایک فاشسٹ وزیر سوشل میڈیا پر بے بس امدادی کارکنوں کو زمین پر اوندھے منہ لٹائے جانے کی ویڈیوز فخر سے شیئر کرتا ہے، تو وہ دراصل پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کے عالمی احتساب اور ضابطے سے آزاد ہو چکے ہیں۔
دوسری طرف، اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی اداروں کا کردار اب محض ایک دفتری تماشے اور منافقت سے بڑھ کر کچھ نہیں رہا۔ سلامتی کونسل کا ڈھانچہ اس طرح مفلوج کیا جا چکا ہے جہاں ایک بڑی سپر پاور کا ‘ویٹو’ ہمیشہ ریاستی دہشت گردی کا دفاع کرنے کے لیے تیار ملتا ہے، جس کی وجہ سے یہ نام نہاد عالمی فورم محض کھوکھلے بیانات جاری کرنے اور ‘شدید تشویش’ کا روایتی ملبہ اٹھانے تک محدود ہو چکا ہے۔ کھلے سمندروں پر کھلم کھلا ریاستی قزاقی ہوتی ہے، مگر عالمی برادری کے تمام انصاری میکانزم منجمد نظر آتے ہیں۔ دنیا نے عملاً اس جارحانہ صیہونی نظریے کے سامنے مکمل طور پر ہتھیار ڈال دیے ہیں جسے مغربی دارالحکومتوں سے نہ صرف مسلسل مادی و عسکری کمک ملتی ہے بلکہ ہر فورم پر سفارتی ڈھال بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اس شترِ بے مہار کو حاصل کھلی چھوٹ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد بننے والے عالمی ڈھانچے کی رہی سہی ساکھ کو بھی مٹی میں ملا دیا ہے۔ جب دنیا اس بات پر خاموش مہر لگا دیتی ہے کہ آسٹریلیا، اٹلی، پاکستان، برازیل یا جرمنی کے پرامن شہریوں کو محض انسانیت کا درد جاگنے کے جرم میں اغوا کیا جائے اور ان کی تذلیل کی جائے، تو گویا اب دنیا میں بھوک مٹانے اور مرہم رکھنے کا راستہ بھی قانونی طور پر بلاک سمجھا جائے۔
اس بھیانک منظرنامے میں مسلم دنیا اور او آئی سی جیسے روایتی اداروں کا رویہ بھی شدید مایوس کن اور مجرمانہ مصلحت پسندی کا شاہکار رہا ہے۔ اگرچہ ان ممالک کے عوام کے دلوں میں اپنے مظلوم بھائیوں کے لیے شدید تڑپ اور غصہ موجود ہے، لیکن ان کے مقتدر حلقے مغربی طاقتوں کے ساتھ اپنے تزویراتی مفادات، معاشی بیساکھیوں اور سفارتی نیٹ ورکس کے جال میں اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ ان کے لبوں پر قفل لگ چکے ہیں۔ بعض علاقائی حکومتیں اس قسم کی عوامی اور آزاد امدادی تحریکوں کو اپنے لیے ایک پوشیدہ خطرے کے طور پر دیکھتی ہیں، کیونکہ انہیں خوف ہوتا ہے کہ اگر عوام کی سطح پر بیداری اور حقِ خودارادیت کا یہ جذبہ سراہا گیا تو یہ چنگاری کل کو خود ان کے اپنے بچھائے ہوئے شاہی اور آمرانہ اقتدار کے تختوں کو بھی الٹ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کا سرکاری ردعمل ہمیشہ تاخیر سے آنے والے بے اثر مشترکہ اعلامیوں تک محدود رہتا ہے۔ یہاں تک کہ زمینی راستوں سے جانے والے امدادی قافلوں کو بھی علاقائی سیاست اور سرحدوں کی نام نہاد بندش کے نام پر روک دیا جاتا ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان حکمرانوں کے نزدیک مظلوموں کی پکار پر لبیک کہنے کے بجائے ہمیشہ اپنے اقتدار کی بقا اور باہمی رنجشیں اولویت رکھتی ہیں۔
عالمی اداروں اور مقتدر حکومتوں کے اس مکمل اور تاریخی ناکامی کے بعد، اب یہ بھاری اخلاقی ذمہ داری دنیا کے عام شہریوں اور بیدار مغز سماج پر عائد ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب حکومتیں اور ان کے قوانین انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو جائیں، تو عوام کی طرف سے بائیکاٹ، سرمایہ کاری کی واپسی اور پابندیوں کی منظم مہمات ہی وہ واحد ہتھیار بچتی ہیں جو ظلم کے ان آہنی ستونوں کو پگھلا کر رکھ سکتی ہیں۔ جب دنیا بھر کے صارفین شعوری طور پر ایسی مصنوعات اور اداروں کا بائیکاٹ کرتے ہیں جو اس ریاستی جبر کی پشت پناہی کر رہے ہیں، تو وہ براہ راست اس معاشی اور نظریاتی لائف لائن پر کاری ضرب لگاتے ہیں جس کے بلبوتے پر یہ وحشت پل رہی ہے۔ کوئی بھی ظالم حکومت، چاہے وہ کتنے ہی جدید ہتھیاروں سے لیس کیوں نہ ہو، طویل عرصے تک دنیا کے مکمل سماجی اور معاشی بائیکاٹ کا سامنا نہیں کر سکتی۔ جب تک عالمی برادری اس مجرمانہ بے حسی کو جھٹک کر انسانی وقار کے لیے کوئی یکساں معیار قائم نہیں کرتی، تب تک کھلے سمندروں پر اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر نکلنے والے ‘صمود فلوٹیلا’ کے ان جانبازوں کا جذبہ اور استقامت ہی اس تاریک دور میں انسانیت کا آخری محاذ رہے گا۔ ورنہ متبادل کے طور پر ہم ایک ایسی بھیانک دنیا کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں کسی مجبور کو روٹی دینا بھی جرم بن جائے گا اور ظالم کو ابدی لعنت اور ملامت کے سوا دنیا کی کسی عدالت سے کوئی سزا نہیں مل پائے گی۔
پروفیسر اکرم ثاقب








