خودداری میں بس وہ یوں فاقوں سے مر گیا
سامان مدد جو آنا تھا وہ صاحب کے گھر گیا
چادریں چڑھ رہی تھیں مزار پر تو بیشمار
بے لباس بیٹھا تھا باہر وہ سردی سے مر گیا
چھین لیا کھانا امیروں کے پالتوئوں نے یہاں
اور غریبوں کے مقدر میں تو فاقہ ہی پڑ گیا
چہرے پر لکھ رکھا ہے کہ مرگیا وہ بھوک سے
اور تم یہ کہہ رہے ہو کہ کچھ کھا کر مر گیا
یہ نہ سمجھو کہ جو ہونا تھا وہ ہو گیا ظالموں
جو ہوگا تمہارے ساتھ تو کہو گے کہ کون کر گیا
حاکمیت میں تمہارے گر کوئی بھوکا ہو کتا بھی
پوچھے گا تم سے رب کہ بتائو انصاف کدھر گیا
کیا دوگے پھر جواب اپنے رب کے سامنے سوچو
پھر ڈھونڈو گے کہ وہ کدھر گیا اور یہ کدھر گیا
وہ اپنی رسی کھینچنے پر آجائے تو پھر یوسف
یہ نہیں دیکھتا کہ کون کہاں گیا کون کدھر گیا
محمد یوسف میاں برکاتی








