آپ کا سلاماردو نظمڈاکٹر عرفان احمد بیگشعر و شاعری

زیارت، جونیپر کا جنگل جلا ہے

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ کی ایک اردو نظم

(نظم کا پس منظر) بلوچستان میں (ضلع اور شہر زیارت) کو ئٹہ سے 130 کلو میٹر دور شمال میں ہے، سطح سمندر سے بلندی 8035 فٹ ہے یہ سردیوں میں شدید سرد ہوتا ہے یہاں جونیپر کا قدیم جنگل دنیا کا دوسرا بڑاجنگل ہے زیارت کے اِن جونیپر کے درختوں کی عمریں ماہرینِ نباتات کے مطابق 5000 سال سے7000 سال تک ہیں اِس لیے اِ ن درختوں کو(Living Fossils) بھی کہاجاتا ہے اقوام متحدہ کے ادارے UNESCO نے زیارت کے اِن جنگلات کو بائیو سفیئر ریزرو (Biosphere Reserve) کا درجہ دے رکھا ہے۔ 25 اور26 ستمبر2026 ء کی رات جونیپر کو اِس جنگل میں آگ لگ گئی یا لگادی گئی؟ اِن درختوں نے نبیو ں کے زمانے دیکھے ہیں، واضح رہے کہ درخت نہ صرف ہوا سے سانس لینے کے دوران کاربن ڈائی اکسائیڈجذ ب کر کے آکسیجن خارج کرتے ہیں بلکہ یہ آوازوں کو بھی جذب کرتے ہیں ماہرین کا نظریے ہے کہ اِن کے تنے جب کاٹے جا تے ہیں، تو جو دائرے دکھائی دیتے ہیں اُن سے ہزاروں سال قبل آنے والے زلزوں،طوفانوں اور سیلابوں کا ریکارڈ مل سکتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اِن میں جذب،،محفوظ،،ہزاروں سال کی پر انی آوازوں کے ذریعے انسان ہزاروں سال قدیم پُراسرا داستانوں کو بھی مستقبل میں سن سکے گا۔

زیارت میں دیکھو! جنگل جلا ہے
جونیپر کا جنگل۔
نبیوں سے زیادہ درختوں کی عمریں،
یہ زندہ فاسل گواہ تھے، یہ واقف تھے
زمانوں کے اسرار خانوں سے
کھڑے تھے یہاں ہزار وں برس سے
پہاڑوں پہ آکاش کو بوسے دیتی فضاؤں میں
پنچھیوں کو بتا تے تھے،
ماحول کے دائرہ در دائرہ،
نظاموں کی، ازل سے ابد تک کہانی
ہو ا کی زبانی۔
ہوا کب رکی ہے، نہ ہی رکے گی،
جونیپر پہ رقصاں، جونیپر کو چومے جو نیپر سے لپٹے
ہو اجذب کرتا، صدا جذب کر تا جو نیپر کا جنگل
اپنے تنوں میں، چھپائے،
عہد ِ کہن کی کہانی، کہا نی۔
ہزاروں برس پہلے اُس نے سنی تھی
خدا اور موسیٰ کی باتیں، وہ ساری باتیں۔
جونیپر کو معلوم تھا، فرعون کا وہ تکبر
کہ جس نے ڈبو یا، ڈبو کر نکالا،
اُوپر اچھالا،عبرت بنا کر دکھا یا۔
زیات میں کوہ ء خلیفت کی چو ٹی
یہاں سے جونیپر نے دیکھی تھی،
کوہ ء ارارات پر نوح کی کشتی،
کہ جب فاختہ نے، زیتون کی ایک ٹہنی پہ لکھی عبارت بتائی
امن کی، زبانی محبت سنائی۔
زیارت میں جونہی جونیپر کا جنگل جلا تو،
آسماں پر دھوئیں نے لکھا،الاماں، الاماں
درد کی دستان، درد کی داستاں
بدھ گیا،، میں بوڑھا پیپل پکارا
بدھی ورکش میں، بدھا کی روح تھرتھرائی،
فضا کپکپائی۔
ہو اچیختی سینا سے ہو تی فلسطین وادی میں پہنچی،
مسیحا کے آنسو نمی بن گے اِ س ہوا میں،
اس صدا میں صلیبوں پہ چڑھنے کی چیخیں صدائیں،
چتاؤں میں جلتے،اکڑتے،لاشے، انگار، شعلوں،میں رقصاں۔
پکارے پکارے(پرو میتھیس) تو ہمدر تھا انسانیت کا؟
کہ ،،زؤس،، سے آگ تھی چرائی
کہ انساں کو تھی، گرمیِ جاں،اور روشنی ضرورت،
ہوا،،ہند،،میں بین کر تی جو پہنچی،
رادھا کی آہیں،کرشن کی بنسی
کس قدر ہے دکھی، داستانِ جونپیر
(کد مب،، تمال،، تلسی اور املی تلا )
سب رو رہے ہیں، سب رو رہیں
کہ انسان کی انسانیت،مر گئی ہے
زیارت میں اِس کی، چتا جل گئی

( وضاحت ) نمبر1۔کوہ ء خلیفت وادی زیارت کا سب سے بلند پہار۔ نمبر 2۔کو ہ ارارات ترکی اور روس کی سرحد کے قریب واقع پہاڑ جہاں سے نوح کی کشتی کے آثار دریافت ہو ئے۔نمبر3۔ بھارت کی ریاست بہار میں (بوددھ گیا)جہاں پیپل کاڈحائی ہزار سالہ پر انادرخت ہے جس کے نیچے مہاتما بدھ کو نروان ملا تھا،(بودھی ورکش) یعنی 35 کی عمر میں ملنے والا گیان،یا نروان نمبر4۔کدمب، تمال، تلسی اور املی تلا ہند ومت کے وہ مقدس درخت ہیں جن کا ذکر رادھا اور کرشن کی دیو مالائی داستان میں ملتا ہے۔نمبر5۔پرو میتھیس Prometheus یونانی دیو مالا کے دیوتاؤں میں سے ایک اہم کردار جس نے تمام دیوتاوں کے بادشاہ Zeus زؤس کے محل سے آگ چرائی اور انسانوں کو لا کردی کہ انسانوں کو حرارت اور روشنی کی ضرورت تھی اس جرم پر Zeus نے Prometheus کو ایک خوفناک سزا دی کہ اُسے زنجیروں میں جکڑ دیا گیا، پھر ایک عقاب کو اس پر معمور کردیا جو صبح سے شام تک اُس کے سنیے پر بیٹھ کر اُس کادل نوچ نوچ کر کھاتا اور رات کو اڑ جاتا پھر رات میں دوبارہ اُس کا دل بن جا تا اور صبح عقاب پھر سے نو چنا شروع کر دیتا۔

post bar salamurdu

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ

نام۔ ڈاکٹر عرفان احمد بیگ،،تمغہ ء امتیاز،، ولد حسان احمد بیگ پیدائش۔ 12 دسمبر1954 ء کوئٹہ۔۔ تعلیم۔پی ایچ ڈی اردو،، ایم اے سوشل ورک،۔ایم اے ہسٹری۔ ایم اے ایجو کیشن (ریٹائر پر وفیسر محکمہ تعلیم بلوچستان ہائر ایجوکیشن اینڈ کالجز ) وزیٹنگ پروفیسر بلوچستان یو نیو رسٹی کو ئٹہ۔ بیوٹم یو نیو رسٹی کو ئٹہ۔ کالم نگار، تجزیہ نگار، فیچررائٹر، ادیب، شاعر، محقق، ماہرتعلیم، مورخ، روز نامہ۔ مشرق 1975 ء تا 1988 ء۔ روز نامہ جنگ 1988 ء تا 2017 ء روز نامہ ایکسپریس 1918 ء تا حال روزنامہ دن لاہور روز نامہ پاکستان۔ پی ٹی وی۔ ریڈیو پاکستان کو ئٹہ۔ لاہور۔ راولپنڈی۔ اسلام آباد۔پرائیویٹ ٹی وی چینلز شائع شدہ کتب۔۔ تعدا د 18۔ 80 فیصد شائع شدہ کتب ایوارڈ یافتہ انعام یافتہ مکان نمبر 9-14/3 اسٹیورٹ روڈ کو ئٹہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button