اردو غزلیاتشعر و شاعریعدیم ہاشمی

اسے تشبیہ کا دوں آسرا کیا

عدیم ہاشمی کی اردو غزل

اسے تشبیہ کا دوں آسرا کیا
وہ خود اک چاند ہے پھر چاند سا کیا

قیامت ہو گیا چلنا بھی مجھ کو
پلٹ کر دیکھنا بھی تھا ترا کیا

الٹ جاتی ہے صورت آئینے میں
دکھائے گا حقیقت آئینہ کیا

بہت نزدیک آتے جا رہے ہو
بچھڑ جانے کا سودا کر لیا کیا

بڑے محتاط ہوتے جا رہے ہو
زمانے نے تمہیں سمجھا دیا کیا

تہی محسوس آنکھیں ہو رہی ہیں
نہ جانے آنسوؤں میں بہہ گیا کیا

کسے تکتے ہوئے پتھرا گئے ہو
خلاؤں میں تمہارا کھو گيا کیا

بڑے رنگین سپنے آ رہے ہیں
عدیم اس نیند سے اب جاگنا کیا

عدیم ہاشمی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button