اردو نظمڈاکٹر وحید احمدشعر و شاعری

انیسویں صدی کا کوچہُ یار

ایک اردو نظم از ڈاکٹر وحید احمد

انیسویں صدی کا کوچہُ یار
کوچہُ یار کی مرجعِیت
تو اک روزِ روشن کی مانند سب پر عیاں ہے
بھلا کون کافر ہے
جو اس حقیقت سے انکار کرنے کی جرات کرے
کوچہُ یار قصبے میں سب سے الگ
اور سب سے زیادہ توجہ کا مرکز
ہر اِک دل کی دھڑکن
ہر اک کو معزز
بہت محترم۔۔۔۔۔
کوچہُ یار تو
بس ریاست کے اندر ریاست ہے گویا
وہ داروغہ
جس کے فرٙس کے سموں سے
دھمک دار چنگاریاں پھوٹتی تھیں
کبھی کوچہُ یار سے جو گزرتا
تو دلکی ہوئی چال میں ڈگمگاتا
یہاں محتسب پاؤں پاؤں سنبھل کر
ٹھہر کر
ٹھٹھک کر
کنکھیوں سے دربان اور چوبداروں کی
با وردی اور مستعد ٹولیاں دیکھ کر
چونکتا
سوچتا
یہ جو درباں نہ ہوتے’
درِ یار پر قفلِ آہن نہ ہوتا
درِ نیم وا سے رخِ یار کی جھلکیاں جھلملاتیں
‘تو شاید چھلکتی مرادیں بر آتیں
مگر جھرجھری آ گئی
جب اسے
کوچہُ یار کی سرخ مسجد کا وہ مولوی یاد آیا
جسے اس نے زنداں میں داخل کیا تھا
یہ مولانا اپنے مدرسے کے اک طالبِ علم کو
ایک کاغذ تھما کر یہ کہنے لگے
۔۔۔۔’یہ غزل میں نے ان کے سراپے پہ لکھی ہے
جاؤ اور ان کو تھما آؤ
‘میرا سلام عرض کرنا
حسینہ نے جیسے ہی کاغذ پڑھا
تو بھڑک کر کہا
۔۔ ‘اے ستم دیدہ لمڈے
دفان
اور سن
اپنے بے وزن با رِیش واعظ سے کہنا
کہ بس وہ نمازیں پڑھایا کرے
اور یہ بھی بتانا
کہ دلی کے دل میں ہمی گونجتے ہیں
کہ سب لوگ اس کے خدا سے زیادہ ہمیں پوجتے ہیں۔’۔
یہ سن کر
سبک سار واعظ نے پرمغز لاحول پڑھ کر
بڑی بےبسی سے درِ یار کے قفلِ ابجد کو دیکھا
تو پھر جھرجھری سے بھرے محتسب کو
وہ دن یاد آیا
کہ جب مولوی پابجولاں عدالت میں حاضر کھڑا تھا
وہ دن یاد آیا
کہ جب اس نے زنداں کا دورہ کیا
تو بہت رازداری سے مولانا بولے
!مرے محترم’
مولوی محتسب، محتسب مولوی
ایک ہی بات ہے
بس بہت ہو گیا
چھوڑ دیجے ہمیں۔’۔
محتسب خود کلامی میں کہنے لگا
پاس داری نہ ہوتی’
تو میں ایسا مجرم کہاں چھوڑتا۔’۔
. . . . . . . . . . . . . .
کوچہُ یار میں ایک مے خانہ ہے
دن میں ویرانہ ہے
رات مستانہ ہے
ایک ہنگامہ ہے
دستِ ساقی کشادہ ہے، سازش میں ہے
جام گردش میں ہے
نالہ نالِش میں ہے
سب درِ یار کی سمت رخ کر کے بیٹھے ہوئے
آہ بھرتے ہیں
پھر واہ بھرتے ہوئے شعر کہتے ہیں
پیمانہ پیمانے کو ناپتا ہے
سبو پر سبو
جام پر جام کا سلسلہ ہے کہ بس ٹوٹتا ہی نہیں
دیکھتے دیکھتے یار کی بام پر
اک چراغوں کا لشکر کہ روشن ہوا
مے کدے کا توازن بس اک ثانیہ بے توازن ہوا
عاشقِ نامراد ایک ہنگام سے
اپنے لرزہ براندام پیکر کو پاؤں پہ دھرتے ہوئے
جب درِ یار پہنچے
تو کیا دیکھتے ہیں
کہ تاریکیوں کے دیے بام پر ہر جگہ جل رہے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نقیبِ سلیماں کُلہ کی منادی
خبر ہے کہ جنگل کی آگ
اپنے شعلوں میں سب عاشقوں کی تمنا لپیٹے چلی جا رہی ہے
خبر ہے کہ توبہ شکن جانِ جاں
بزم برپا کرے گی
یہ سننا تھا اور شہر کی بےکراں رونقیں لوٹ آئیں
سبھی دل کی دھڑکن یہی کہہ رہی ہے
کہ وہ محفلِ ناز میں حاضری کی سعادت اٹھائے
بالآخر وہ رات آئی
جب ایک ماہِ تمام آسماں پر چمکتا تھا
اور دوسرا اپنے حٙجلے کی رعنائیوں میں دمکتا تھا
۔۔۔۔۔۔حسنِ فراواں لئے
. . . . . . . . . . . . . . . .
کوئی خلقت سی خلقت تھی
مت پوچھئے
الاماں الحفیظ
ایک لشکر کا لشکر چلا آ رہا تھا
یہ بانکے میاں ہیں
سفید اجلا کرتہ، طرح دار انگرکھا
تو چندوے کی براق ململ کی ٹوپی
ذرا کج کئے
جھلملاتے مچلتے چلے آ رہے ہیں
ارے
یہ تو نواب صاحب ہیں بھائی
سلیقے سے سلوایا غلطے کا پاجامہ
کرنوں بھرا جامدانی انگرکھا
اور اس پر سیہ مخملیں چار گوشے کی چمکیلی ٹوپی
کئی ان کے خدام پہلو میں چلتے ہیں
اک نے خریطہ اٹھایا ہوا ہے
جسے کھولئے
تو غزل در غزل ایک دیوان ہے
عطرداں جس کی سطروں کو مہکا رہا ہے
ادھر جانِ جاناں کی اجلی حویلی ہے
لٙو دے رہی ہے
کہ قلٙعی چونے میں ابرک ملا کر چڑھائی گئی ہے
کچھ ایسے
کہ ماہِ تمام اپنی چٹکی ہوئی چاندنی کو
حویلی کی چاندی سے کم دیکھتا ہے
درِ یار پر عاشقوں کا ہجوم اب ترقی پہ ہے
کہ کہیں تام جھام
اور کہیں پالکی ڈولتی آ رہی ہے
کوئی سست رو تو کوئی پوری رفتار میں آ رہا ہے
کوئی پاپیادہ
تو کوئی ہوا دار میں آ رہا ہے
رقیبوں کے ٹولے بھی افتاں و خیزاں چلے آ رہے ہیں
درِ یار پر مستعد چوب دار اور دربان منصب سنبھالے ہوئے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دور
قلعہ معلیٰ سے
مغلوں کا اجڑا ہوا آخری بادشہ
رشک سے یہ چکاچوند دیکھا کیا
اک مصاحب سے پوچھا
ہوا بند ہے’
پھر بھی دیکھو ذرا
کوچہُ یار میں بار بار ایک گرد و غبار اٹھ رہا ہے۔’۔
تو مجرائی بولا
!شہنشاہِ ہندوستاں’
یہ غبار ان گذشتہ پرستار روحوں کا ہے
‘جن کو گزرے ہوئے اک زمانہ ہوا
بادشہ جھرجھری لے کے واپس مڑا
لڑکھڑایا
تو اک ملکہُ عالیہ نے لپک کر اسے بازوؤں میں بھرا
اور نفرت سے اجلی حویلی کو دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وحید اجمد
تئیس جولائی 2026

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button