مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”
سہیل احمد صمیمؔ کی نعتیہ نظم
زنگ آلودہ محبت سے لرز جاتا ہوں
ایک چھوٹی سی شرارت سے لرز جاتا ہوں
خود سے خود تک کی مسافت سے لرز جاتا ہوں
یعنی میں اپنی ہی صورت سے لرز جاتا ہوں
ایسی حالت ہے کہ حالت کا پتا ہے ہی نہیں
مرضِ نو کی کوئی معروف دوا ہے ہی نہیں
شدتِ کرب سے ہر وقت بھرا رہتا ہوں
آتش خورد کے پہلو میں کھڑا رہتا ہوں
وصل ہوں ہجر کے رنگوں میں اڑا رہتا ہوں
اک نگینہ ہوں سرِ راہ پڑا رہتا ہوں
جانبِِ طیبہ قدم ہو تو کوئی بات بنے
آپ کی چشمِ کرم ہو تو کوئی بات بنے
میں خطا کار ہوں بخشش کی دعا مانگتا ہوں
چار سو میرے اندھیرے ہیں دیا مانگتا ہوں
بس کہ صحرا میں ہوں کچھ تازہ ہوا مانگتا ہوں
آپ سے اپنے لئے اذنِ شفا مانگتا ہوں
آپ ہی چشمِ کرم لطف و عطا کر دیں حضور
دامنِ دل میں مرے جود و سخا بھر دیں حضور
آپ کی شان ہے قطرے کو سمندر کرنا
اپنی خیرات سے مفلس کو سکندر کرنا
جو میسر نہ ہو دنیا میں میسر کرنا
اپنے تو بس میں نہیں ایسا تصور کرنا
درد کو چین جو ملتا ہے فقط آپ ہی سے
حمد کا پھول جو کھلتا ہے فقط آپ ہی سے
ہوں عطا مجھ کو بھی آداب دعا کے انداز
مجھ پہ کھل جائیں زمانے کے سبھی عجز و نیاز
عشق یوں ہو کہ ملے میری ثنا کو پرواز
اِک ذرا اونچی نہ ہو میری کبھی بھی آواز
آپ کا ذکر کروں، صرف یہی چاہت ہے
آپ کی نعت پڑھوں، صرف یہی چاہت ہے
شاعر: سہیل احمد صمیم
کتاب : الی النور








