آنکھ کی قبر میں بے بس آنسو پڑا ہُوا تھا
رات کی گود میں ایک سِتارہ مَرا ہوا تھا
سِسک رہے تھے سانس کہیں پر شریانوں میں
جان کے اندر ایک تماشا لگا ہُوا تھا
پھر کیوں اُس نے قید میں مُجھ کو ڈال دیا ہے!
کُرتا تو پیچھے سے میرا پھٹا ہُوا ہے
ایک ہاتھ میں ہاتھ تھا اُس ہرجاٸ کا اور
دوسرا ہاتھ چراغ کی لَو پر دھرا ہُوا تھا
رینگ رہی تھی زیست بدن کی دیواروں پر
میں خالی بستر پر شاید مَرا ہُوا تھا
اندر اِک اَرژَنگ کُھلا تھا جب دیکھا تو
جِسم کا پردہ تب آنکھوں سے ہٹا ہُوا تھا
بوڑھی یادیں حیرانی سے دیکھ رہی تھیں
ایک مچلتا درد زمیں میں گَڑا ہوا تھا
لپٹ گیا بے ساختہ اپنے آپ سے ہی میں
شاید میں محبوب بہت ہی ڈرا ہوا تھا
محبوب صابر







