آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمحبوب صابر

آنکھ کی قبر میں

ایک اردو غزل از محبوب صابر

آنکھ کی قبر میں بے بس آنسو پڑا ہُوا تھا
رات کی گود میں ایک سِتارہ مَرا ہوا تھا
سِسک رہے تھے سانس کہیں پر شریانوں میں
جان کے اندر ایک تماشا لگا ہُوا تھا
پھر کیوں اُس نے قید میں مُجھ کو ڈال دیا ہے!
کُرتا تو پیچھے سے میرا پھٹا ہُوا ہے
ایک ہاتھ میں ہاتھ تھا اُس ہرجاٸ کا اور
دوسرا ہاتھ چراغ کی لَو پر دھرا ہُوا تھا
رینگ رہی تھی زیست بدن کی دیواروں پر
میں خالی بستر پر شاید مَرا ہُوا تھا
اندر اِک اَرژَنگ کُھلا تھا جب دیکھا تو
جِسم کا پردہ تب آنکھوں سے ہٹا ہُوا تھا
بوڑھی یادیں حیرانی سے دیکھ رہی تھیں
ایک مچلتا درد زمیں میں گَڑا ہوا تھا
لپٹ گیا بے ساختہ اپنے آپ سے ہی میں
شاید میں محبوب بہت ہی ڈرا ہوا تھا

محبوب صابر

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button