A True Salam To Urdu Literature

Gul-e-Rangeen

An Urdu Nazam By Allama Iqbal

گل رنگیں
تو شناسائے خراش عقدہ مشکل نہیں
اے گل رنگیں ترے پہلو میں شاید دل نہیں
زیب محفل ہے شریک شورش محفل نہیں
یہ فراغت بزم ہستی میں مجھے حاصل نہیں
اس چمن میں میں سراپا سوز و ساز آرزو
اور تیری زندگانی بے گداز‌ آرزو

توڑ لینا شاخ سے تجھ کو مرا آئیں نہیں
یہ نظر غیر از نگاہ چشم صورت بيں نہیں
آہ یہ دست جفا جو اے گل رنگیں نہیں
کس طرح تجھ کو یہ سمجھاؤں کہ میں گلچیں نہیں
کام مجھ کو دیدہ حکمت کے الجھيڑوں سے کیا
دیدہ بلبل سے میں کرتا ہوں نظارہ تیرا

سو زبانوں پر بھی خاموشی تجھے منظور ہے
راز وہ کیا ہے ترے سینے میں جو مستور ہے
میری صورت تو بھی اک برگ ریاض طور ہے
میں چمن سے دور ہوں تو بھی چمن سے دور ہے
مطمئن ہے تو پریشاں مثل بو رہتا ہوں میں
زخمیٔ شمشیر ذوق جستجو رہتا ہوں میں

یہ پریشانی مری سامان جمعيت نہ ہو
یہ جگر سوزی چراغ خانۂ حکمت نہ ہو
ناتوانی ہی مری سرمایۂ قوت نہ ہو
رشک جام جم مرا آئینۂ حیرت نہ ہو
یہ تلاش متصل شمع جہاں افروز ہے
توسن ادراک انساں کو خرام آموز ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Recommended Salam
A Hamd By Dr Nighat Naseem