آپ کا سلاماردو غزلیاتڈاکٹر الیاس عاجزشعر و شاعری
اس نے مجھ کو ہاتھ لگایا اور لگا کے چھوڑ دیا
ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
اس نے مجھ کو ہاتھ لگایا اور لگا کے چھوڑ دیا
یعنی خاک سے سونا بنایا اور بنا کے چھوڑ دیا
اپنے ہاتھ سے مجھ کو گوندھا اور چڑھایا پنڈی پر
پھر تھوڑا سا چاک گھمایا، اور گھما کے چھوڑ دیا
پہلے دورِ عیش دکھایا، رونق بخشی آنکھوں کو
پھر تقدیر نے خون رلایا، اور رلا کے چھوڑ دیا
خوب ولا ہے رنج و الم سے لیکن یاد ہے قسمت نے
مجھ کو تھا اک بار ہنسایا اور ہنسا کے چھوڑ دیا
عمرِ رواں نے دشتِ طلب میں، پیاس کا ایسا رقص کیا
اک پتلے کو دشت پھرایا، اور پھرا کے چھوڑ دیا
مجھ کو آج تمازت اس کے لمس کی پھر یاد آتی ہے
جس نے بزم میں ہاتھ دبایا، اور دبا کے چھوڑ دیا
اس کی یاد سے اپنے دل کی بستی ہے آباد جسے
پیار کا اس نے راگ سنایا ، اور سنا کے چھوڑ دیا
اپنا رستہ آپ متعین عاجزؔ میں نے کرنا ہے
اس نے عقل و شعور عطایا اور عطا کے چھوڑ دیا
ڈاکٹر الیاس عاجزؔ








