اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

چال ایسی غم زمانہ چلا

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

چال ایسی غم زمانہ چلا
پھر نہ آگے ترا فسانہ چلا

منزل زیست بے سراغ رہی
کوئی جب تک برہنہ پا نہ چلا

دل ملیں تو قدم بھی ملتے ہیں
ساتھ ورنہ کوئی چلا نہ چلا

کس طرف سے تری صدا آئی
چھوڑ کر دل ہر اک ٹھکانہ چلا

کیوں گریزاں ہیں منزلیں ہم سے
نہ چلے ہم کہ رہنما نہ چلا

آج کیسی ہوا چلی باقیؔ
ایک جھونکے میں آشیانہ چلا

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button