اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

ہوئی کش مکش زندگی کی فسانہ

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

ہوئی کش مکش زندگی کی فسانہ
وہ دل چھوڑ کر جا رہا ہے زمانہ

اسی میں ہے پوشیدہ راز زمانہ
فسانہ حقیقت، حقیقت فسانہ

نہ اتراؤ صیاد کی دوستی پر
اسی باغ میں تھا مرا آشیانہ

ادھر نام تک مٹ رہا ہے کسی کا
ادھر بن رہا ہے کسی کا فسانہ

نہ پوچھو محبت کی پرواز باقیؔ
بہت دور تک ساتھ آیا زمانہ

باقی صدیقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button