آپ کا سلاماردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریراکرم ثاقب

امتحانی مراکز یا واہگہ بارڈر

ایک مزاحیہ تحریر از اکرم ثاقب

اس مصنوعی ذہانت (AI) کے تیز رفتار دور میں جہاں مشینیں انسانوں کی طرح سوچنے لگی ہیں، وہیں انسانی سماج میں حقیقی ذہانتوں کو نکھارنے کے بجائے دبانے کا ایک عجیب سلسلہ چل نکلا ہے۔ ۔ اسی مخدوش صورتحال اور مصنوعی ماحول کو دیکھ کر ہمیں انسانی ذہن اور قابلیت کی پیمائش کے وہ روایتی طریقے یاد آئے جنہیں ہم بڑے فخر سے "امتحان” کہتے ہیں، مگر اب یہ امتحانات قابلیت کا معیار نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ بن چکے ہیں۔
صاحبو! وہ زمانہ اب قصۂ پارینہ ہوا اور گزرے دنوں کی حکایت بن گیا جب میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں سب سے بڑا ہوا اور خوف ‘پڑھائی’ کا ہوا کرتا تھا۔ موجودہ دور کے امتحانات میں سرخروئی کے لیے نصابی رٹے سے زیادہ سکونِ قلب، اطمینانِ خاطر، ضبطِ نفس اور فولادی اعصاب کی ضرورت ہے۔ اگر آپ اس پُرآشوب عہد میں نویں، دسویں، گیارہویں یا بارہویں جماعت کے طالب علم ہیں، تو مژدہ ہو کہ آپ طالب علم نہیں، بلکہ کسی مہم جوئی پر نکلے ہوئے ‘جیمز بانڈ’ ہیں، جسے زندگی کے ہر موڑ اور مرکز کے ہر ناکے پر اپنی بے گناہی اور پارسائی کا ثبوت دینا ہے۔ آج کل کے امتحانی مراکز کا جاہ و جلال اور رعب و داب دیکھ کر گمان ہی نہیں ہوتا کہ نونہالانِ وطن پرچہ دینے جا رہے ہیں، بلکہ یوں لگتا ہے جیسے بغیر پاسپورٹ اور ویزے کے واہگہ بارڈر پار کرنے کا کوئی نازک اور خفیہ مشن ہو—اور ستم ظریفی دیکھیے کہ وہ مشن بھی روانگی سے قبل ہی ‘لیک’ ہو چکا ہوتا ہے!
اس داستانِ ستم کا آغاز نگران عملے کی قسمتِ زبوں سے ہوتا ہے۔ اول تو ان اساتذہ کی ڈیوٹی ہی ‘بندوق کی نوک’ پر زبردستی لگائی جاتی ہے، کیونکہ ایسے کڑے اور مخدوش حالات میں امتحانی مرکز کا رخ کرنا اچھے اچھے سورماؤں کے دل گردے کا کام ہے۔ پھر ان کی کڑی تربیت ہوتی ہے اور حلفِ وفاداری کا وہ کٹھن مرحلہ آتا ہے جہاں ان سے ایسے حلف لیے جاتے ہیں جیسے وہ کسی مملکت کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے کا چارج سنبھال رہے ہوں کہ "میں خدا کو حاضر ناظر جان کر حلف اٹھاتا ہوں کہ بوٹی پکڑنے میں قرابت داری، دوستی یا انسانی ہمدردی کو ہرگز آڑے نہیں آنے دوں گا۔” اس بپتا کے بعد ان مظلوم اساتذہ کو ان کے موبائل فونز سے یوں جدا کیا جاتا ہے جیسے سگی ماں سے بچہ بچھڑ گیا ہو۔ صبح آٹھ سے شام چھ بجے تک کی اس ‘قیدِ با مشقت’ میں موبائل چھونے کی بھی اجازت نہیں ہوتی کہ مبادا ذرا سی لغزش پر ‘یو ایم سی’ (Unfair Means Case) کا تازیانہ ان کی اپنی پیٹھ پر برس جائے۔ ذہنی دباؤ کے ازالے کے لیے جیب میں ببل گم رکھنے پر بھی چارج شیٹ کا پروانہ جاری ہو سکتا ہے۔ اس سارے اعصاب شکن معرکے کے بعد بیچارہ نگران ہال میں اس نفسیاتی دباؤ کے ساتھ داخل ہوتا ہے کہ اگر کسی بچے نے غلطی سے کھانس بھی دیا، تو شاید اس کی اپنی نوکری کا چراغ گل ہو جائے گا۔ دوسری طرف، مرکز کے باہر دفعہ 144 کا ایسا ہولناک نفاذ ہوتا ہے کہ باہر کھڑے سہمے ہوئے والدین کو پولیس کے ہرکارے ایسے لاٹھیاں ہلا کر بھگاتے ہیں جیسے وہ کسی غیر قانونی دھرنے کے فتنہ پرور شرکاء ہوں۔
اب باری آتی ہے ہمارے معصوم، سہمے ہوئے اور ستم رسیدہ طالب علموں کی۔ امتحانی مرکز کے بابِ داخلہ پر ان کا استقبال ایسے کیا جاتا ہے جیسے اینٹی نارکوٹکس فورس والے کسی بین الاقوامی قاچاق بر کو چاروں شان چت گھیرتے ہیں۔ "سیدھے کھڑے ہو جاؤ! ہاتھ اوپر! جرابیں اتارو!” کی کڑک دار اور رعب دار آوازیں فضا کی طنابیں توڑتی ہیں۔ ایک غریب طالب علم، جو رات بھر فزکس اور ریاضی کے قوانین رٹ رٹ کر آدھا پاگل ہو چکا ہوتا ہے، وہاں پہنچ کر اپنے ہی وجود پر شک کرنے لگتا ہے کہ کہیں میں واقعی کوئی اشتہاری ملزم یا تخریب کار تو نہیں ہوں؟ اس کے بعد حاضری کا جدید ترین سرکس شروع ہوتا ہے۔ بائیو میٹرک مشین پر انگوٹھا ایسے ثبت کروایا جاتا ہے جیسے امتحان کے فوراً بعد ان کا جسمانی ریمانڈ مقصود ہو۔ اگلا مرحلہ تصویر کے ‘میچ فکسنگ’ کا ہے۔ نگران عملہ رول نمبر سلپ پر لگی تصویر کو طالب علم کے مرجائے ہوئے چہرے سے ایسے ملاتا ہے جیسے ایف بی آئی والے کسی مفرور کا خاکہ میچ کر رہے ہوں۔ اب کوئی ان عقل کے ناخن لینے والوں کو سمجھائے کہ رات بھر جاگنے اور خوف کے مارے طالب علم کا چہرہ ویسے ہی ‘پاسپورٹ سائز’ سے بدل کر کسی ‘کرائم مووی’ کے مجرم جیسا ہو چکا ہوتا ہے، وہ بھلا اصل تصویر سے کیسے میل کھائے گا؟
ایک بار جب آپ ان تمام سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو عبور کر کے ہال کی حدود میں متمکن ہو جاتے ہیں، تو وہاں کا منظر کسی سسپنس فلم کے کلائمیکس جیسا ہوتا ہے۔ نگران عملہ ہال کے طول و عرض میں ایسے پٹرولنگ کر رہا ہوتا ہے جیسے سرحد پر مستعد کمانڈوز گشت کر رہے ہوں۔ ہلکی سی گردن گھمی نہیں اور وہاں سے بجلی گرجی: "شٹ اپ! سیدھے بیٹھو!”۔ حد تو یہ ہے کہ پینے کے پانی کی بوتل پر چڑھی کمپنی کی چٹ (Label) بھی نوچ کر اتروا دی جاتی ہے کہ کہیں اس کے مکتوبات کے پیچھے کیمسٹری کے اسرار و رموز نہ چھپے ہوں۔ بندہ پوچھے، بچے میٹرک کا پرچہ دے رہے ہیں یا سزا کاٹ رہے ہیں؟ میٹرک اور انٹر کے ان تعلیمی بورڈز نے امتحانی مراکز بننے والے اسکولوں اور کالجوں میں سی سی ٹی وی (CCTV) کیمرے لگوانے پر جتنا زرِ کثیر اور فوکس صرف کیا ہے، کاش اس کا آدھا بھی پیپر سیٹنگ اور تعلیمی معیار کی بلندی پر کیا ہوتا! ہال میں موجود ہر بچہ خود کو کسی ‘ریالٹی شو’ کا اسیر سمجھتا ہے جہاں اس کی ہر ہر جنبش پر لائیو نظر رکھی جا رہی ہوتی ہے۔ سیکیورٹی اور نقل کی روک تھا م بالکل ہونی چاہیے، مگر اس کے لیے بچوں میں اخلاقی اور وجدانی احساس اجاگر کرنا چاہیے، نہ کہ انہیں خوف کی سولی پر لٹکا دیا جائے۔
پس بھائی صاحبان! نگرانی اپنی جگہ سر آنکھوں پر، مگر بچوں کو دبکے مارنا اور ان کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھنا کہ جیسے وہ کوئی جرائم پیشہ عناصر ہوں، کسی طور مناسب اور زیبامحل نہیں ہے۔ امتحانی مرکز کو ناقابلِ تسخیر قلعہ اور معصوم بچوں کو مشکوک بنا دینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ اب بچہ ریاضی کا تھیورم یاد کرے یا یہ یاد رکھے کہ اس نے تلاشی کے وقت اپنی کلائی کی گھڑی اور قلم کا ڈھکن باہر چھوڑا تھا یا اندر؟ اگر یہی رفتارِ بے ڈھنگی رہی تو بعید نہیں کہ اگلے سال سے امتحانات کے لیے درج ذیل مضحکہ خیز قوانین بھی نافذ کر دیے جائیں: اول یہ کہ طالب علموں کو امتحانی ہال میں صرف ‘حجام والے ایپریل’ پہن کر بیٹھنے کی اجازت ہوگی تاکہ بازوؤں میں بوٹی چھپانے کا ادنیٰ سا خطرہ بھی باقی نہ رہے۔ دوم یہ کہ پرچے سے پہلے سب کا ‘لائی ڈی ٹیکٹر’ (جھوٹ پکڑنے والی مشین) ٹیسٹ ہوگا کہ "سچ بتاؤ، رات کو واقعی مطالعہ کیا تھا یا صرف کتاب کھول کر رٹّے کا ناٹک کر رہے تھے؟” اور شق نمبر تین یہ ہوگی کہ امتحانی مرکز میں داخلے سے پہلے سب کا ایکسرے اور ایم آر آئی (MRI) کروایا جائے گا تاکہ یہ تسلی ہو سکے کہ کسی نے دماغ کی تہوں میں کوئی جواب تو نہیں چھپا رکھا۔
مغرب کے تعلیمی نظام کی ایک درخشاں مثال امریکا اور یورپ کی یونیورسٹیوں میں رائج ‘آنر کوڈ’ (Honor Code) کی ہے۔ وہاں کئی امتحانات میں پروفیسر صاحب پرچے تقسیم کر کے خود ہال سے باہر تشریف لے جاتے ہیں اور طالب علم تنہا بیٹھ کر پورے اطمینانِ قلب سے پرچہ حل کرتے ہیں۔ وہاں نہ کوئی دیدۂ بینا (کیمرہ) ہوتا ہے نہ کوئی نگرانِ سخت گیر؛ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ امتحان طالب علم کی صرف یادداشت کا نہیں، بلکہ اس کی دیانتداری اور اخلاقیات کا بھی معائنہ ہے۔ اسی طرح وہاں ‘اوپن بک امتحانات’ کا تصور ہے، جہاں کتابیں سامنے رکھنے کی کھلی اجازت ہوتی ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ سوال رٹے کا محتاج ہی نہیں بلکہ طالب علم کی ذہنی صلاحیت اور فہم کا عکاس ہے۔
ہمارے ایک استادِ محترم نے برطانیہ میں بچوں کی امتحانی نگرانی کا ایک آنکھوں دیکھا اور سبق آموز واقعہ سنایا۔ وہ وہاں پی ایچ ڈی کی غرض سے مقیم تھے تو ایک روز ان کے سپروائزر صاحب کلاس کا امتحان لے رہے تھے۔ سپروائزر کو اچانک چند لمحوں کے لیے باہر جانا پڑا تو انہوں نے ہمارے استاد صاحب کو نگرانی کی عارضی ذمہ داری سونپ دی۔ جب وہ واپس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ ہمارے استاد صاحب کمرۂ امتحان میں روایتی طریقے سے مٹر گشت کر رہے ہیں اور طلباء کو خاموش رہنے کی تلقین بڑے رعب اور باآوازِ بلند فرما رہے ہیں۔ سپروائزر صاحب نے آتے ہی حیرت سے پوچھا کہ "یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ نگرانی (Invigilation) کا مطلب تو یہ ہے کہ اگر کسی بچے کو کوئی پریشانی ہو، پانی پینا ہو، قلم کی روشنائی دغا دے جائے یا اضافی کاغذ درکار ہو تو آپ اس کے ممد و معاون بنیں۔ آپ تو الٹا انہیں ہراساں کر رہے ہیں! اب یہ آپ کے دبکے سنیں یا یکسوئی سے اپنے افکار کو کاغذ پر منتقل کریں؟” سپروائزر نے مزید کہا کہ "ہم نے انہیں اپنا نفع اور نقصان پہلے ہی ذہن نشین کرا دیا ہے کہ نقل کے سہارے پاس ہونے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ نوکری تو آگے چل کر میرٹ پر ٹیسٹ پاس کرنے سے ہی ملنی ہے۔”

خدارا! امتحانات کو امتحانات ہی رہنے دیں، اسے پاک-انڈو بارڈر کی جھڑپ نہ بنائیں۔ بچے پرچہ لکھنے جاتے ہیں، کوئی ‘سرجیکل اسٹرائیک’ کرنے نہیں!

اکرم ثاقب

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button