آپ کا سلاماردو نظمشعر و شاعرینیل احمد

وجود کرب سے آگے

نیل احمد کی ایک اردو نظم

میں جوہر پر مقدم ہوں

مرے پاؤں کی بیڑی یہ زمانہ بن نہیں سکتا

نہ ہی محدود ہوں اور ناگہانی بھی نہیں ہوں میں

مقدر تھا مرا ماضی

مگر میں حال، مستقبل کا سودا سر میں رکھتی ہوں

میں ہی تو مرکزی کردار ہوں اپنی کہانی کا

اساسی کچھ نہیں ہے

منطقی نا جوہری کچھ ہے

میں خود میں ڈوب کر تشکیل نو کرتی ہوں خود اپنی

میں خود تخلیق کرتی ہوں

مکاں کے معنی و مفہوم

سچائی مجھ سے پھوٹی ہے

میں سچی ہوں مگر دنیا یہ جھوٹی ہے

نیل احمد

post bar salamurdu

نیل احمد

ایم فل اردو جاری ہے اور مختلف جامعات میں لیکچرار ہیں، ترجمہ نگار اور شاعرہ ہیں . پہلا شعری مجموعہ فریبِ آگہی منظر عام پر آچکا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button