آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعمران ہاشمی

بعض صدائیں ایسی ہیں

عمران ہاشمی کی ایک اردو غزل

بعض صدائیں ایسی ہیں جو دِل دہلاتی ہیں
لے جاتی ہیں دُور کہیں واپس نہیں لاتی ہیں

بعض کا آسن جم جاتا ہے بھیڑ کے اندر بھی
بعض ارواح تو دنیا میں آکر پچھتاتی ہیں

بعض کو موقع مِل جاتا ہے کھِلنے نکھرنے کا
بعض طبائع خود میں ہی ہو کر رہ جاتی ہیں

زندہ ہوجاتے ہیں لاکھوں سال پُرانے خوف
ایسی ایسی شبیہیں دیکھنے میں آجاتی ہیں

نوحہ گر ہیں ایسی ایسی یادیں اس دِل میں
خود بھی تڑپتی رہتی ہیں مجھکو بھی رُلاتی ہیں

ایسی ایسی تشنگیوں کی بھیڑ ہے یادوں میں
یاد آئیں تو آنکھیں ساگر ہو ہو جاتی ہیں

بچھڑ گئے ہیں یارب کیسی کیسی شکلوں سے
ہو کوئی ایسی صورت جس سے وہ مِل پاتی ہیں

اِس جینے سے گزرجانا بے حد معمولی ہے
ہم تیرے بارے میں کچھ ایسے جذباتی ہیں

جن ناگِن زلفوں کے جوگی کہیں نہیں ہوتے
ویرانوں میں شام ڈھلے وہ پھن پھیلاتی ہیں

تم سے گلے شکوے میرے بیکار نہیں صاحب
موجیں ساحل پاجائیں تو سر ٹکراتی ہیں

تُم سے مِلوں تو میں بھی اپنی جانب لوٹ سکوں
موجیں ساحل سے ٹکرا کر واپس جاتی ہیں

ایسا بھی خاموشی کا استھان نہ قائم کر
آوازیں گلیوں چوکوں سے آہی جاتی ہیں

عمران ہاشمی

post bar salamurdu

عمران ہاشمی

شاعر، افسانہ نگار، کالمسٹ - شعری مجموعہ ’’عکسِ جاں‘‘۲۰۱۱ - ادبی وابستگی: حلقہ اربابِ ذوق گوجرانوالہ - انجمن ترقی پسند مصنفین گوجرانوالہ و پنجاب - آغازِ شاعری 2001 - مینجنگ ڈائریکٹر: عامی پرنٹنگ پریس گوجرانوالہ - بن ہاشم پبلیکیشنز گوجرانوالہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button