ہیں جاری کوششِ انسان، مگر تقدیر رب کی
باہم مل جائے تو شعلہ یا خوشبو گلاب سی
حقیر جان کر کوشش کو تو اسے ترک نہ کر
سعیِ ھاجرہ ہے جو بنی سبب زم زمِ آب کی
محترم قارئین اکرام
اس مختصر مضمون میں ہم نے کوشش کی ہے کہ انسانی جہدوجہد کی کیا اہمیت ہے ۔ آج کے دور میں ہم امت مسلمہ کے حالات کی طرف ایک نظر ڈالیں تو بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ” مسائل کے انبار میں” ہماری کوشش کی کیا اہمیت ہے ؟ لیکن قرآن وسنت کی روشنی میں جب مسائل ان گنت ہو جاتے ہیں تو کسی بھی سطح کی کوشش یعنی چھوٹی سی چھوٹی کوشش کی اہمیت بھی کئی گناہ بڑھ جاتی ہے ۔
مثلاً غزوۂ تبوک کی تیاری کے وقت مدینہ میں شدید قحط، گرمی اور مالی تنگی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے جیش (لشکر) کے لیے سامان، زادِ راہ اور مال جمع کرنے کا حکم صادر فرمایا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جیسے مالدار صحابہ نے بڑے بڑے عطیات دیے، مگر کچھ غریب صحابہ بھی تھے جنہیں خوف تھا کہ وہ پیچھے نہ رہ جائیں
ایک غریب انصاری صحابی حضرت ابو عقیل انصاری رضی اللہ عنہ نے سخت محنت کی۔ جو یہودی کے باغ میں کام کیا کرتے تھے۔ انہوں نے اس دن اضافی وقت کام کیا صبح ہونے پر مزدوری کے بدلے انہیں دو صاع (تقریباً دو مٹھی بھر یا تھوڑی سی مقدار) کھجوریں ملیں۔
انہوں نے گھر آ کر ایک مٹھی/صاع اپنے اہلِ خانہ کے لیے رکھ لی اور دوسری مٹھی بھر کھجوریں لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:
”یا رسول اللہ! یہ رات بھر کی محنت سے ملی ہیں۔ ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لیے رکھ لیا ہے اور دوسرا آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں تاکہ اللہ کی راہ میں خرچ ہو۔“
نبی ﷺ نے ان کی اخلاص بھری پیشکش قبول فرمائی اور ان کھجوروں کو مالِ صدقات/جیش کے سامان میں سب سے اوپر رکھ دیا ۔ تاکہ دوسروں کو ترغیب ہو اور اس غریب صحابی کی ہمت افزائی ہوں۔
منافقین کا مذاق:
اس پر منافقین نے کھڑے ہو کر طعنہ دیا:
”اللہ کو اس مٹھی بھر کھجوروں کی کیا ضرورت ہے؟“
”یہ خود اس سے زیادہ محتاج ہے۔“
اس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آیت نازل فرمائی:
”جو لوگ مومنوں میں سے صدقات دینے والوں پر طعنہ کرتے ہیں اور ان لوگوں کو جو محنت کرکے لاتے ہیں ان پر ہنستے ہیں، اللہ ان کے مذاق کو انہی کی طرف لوٹا دے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ (سورۃ التوبہ: 79)
نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ معمولی مقدار اخلاص کے ساتھ بہت بڑے مال سے زیادہ وزن رکھتی ہے۔
اس مذکورہ واقعہ سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹی سی امداد مگر اخلاص کے ساتھ ہوتو اس کی کتنی بڑی اہمیت ہوتی ہے ۔
اوپر لکھے گئے اشعار میں ہم نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ تقدیر جو خالص رب العالمین کی طرف سے بنائی گئی ہے اور انسانی کوششیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں ۔ اچھی کوششِ جب قبول و منظور ہوتیں ہیں اللہ کے نزدیک تو وہ خود کے لیے اور دوسرے انسانوں کے لیے خیر و بھلائی کا ذریعہ بن جاتی ہیں ۔ اور وہ کوششیں شر و فساد کی بنیاد رکھتی ہیں وہ خود اُس کے موجد کے لیے اور ساری انسانیت کے لیے زمانے میں شر و فساد کا باعث بن جاتی ہیں۔ جیسے بڑے تباہی پھیلانے والے ہتھیار اور گمراہ کن نظریات وغیرہ ۔ جو لوگ کوشش کو ترک کر دیتے ہیں ۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جب انسان کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو موت بھی انسان کو اس مقام پر لے جاتی ہے جس مقام پر اسے مرنا لکھ دیا گیا ہے ۔ یعنی مرنے تک انسانی جہدوجہد جاری رہا کرتی ہے ۔
مزید کوشش (ہم معنی سعی عربی لفظ) کے ساتھ جو لوگ توکل علی اللہ کا دامن نہیں چھوڑ تے ہیں ۔ ایسی کوششیں تو معجزہ کا سبب بن جاتی ہیں ۔ جیسے بی بی ھاجرہ سلام اللہ علیھا نے پانی کی تلاش میں صفا و مروہ کے درمیان جو عملی جدو جہد کی اور قافلوں کو تلاش کیا ، اللہ نے اس کوشش کو نہ صرف قبول و منظور فرمایا بلکہ تاقیامت اس واقعے کو زندہ رکھنے کا فیصلہ کیا ۔
یہ تمام دلائل ہمارے لیے روشنی فراہم کرتے ہیں کہ ہم حکمرانوں یا کسی صاحب اقتدار پر تنقید سے بہتر کہ ذاتی عمل کی طرف توجہ دیں ، کہ ہم اپنی بساط و استطاعت کے مطابق ہر خیر کے عمل میں تعاون کریں، حصہ لیں ، اپنے کو روک رکھنے کا کوئی جواز نہیں ۔ نیز غزہ تبوک میں غریب صحابی کے عمل پر جس طرح منافقین نے طنزیہ انداز اختیار کیا ہمارے لیے یہ واقعہ ایک سبق فراہم کرتا ہے کہ کسی بھی کوشش کو حقیر نہ سمجھیں ۔ اور خود کے کردار کا جائزہ لیتے رہیں۔
احمد حجازی







