آپ کا سلاماردو غزلیاتاویس خالدشعر و شاعری

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

ایک اردو غزل از اویس خالؔد

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں
میں احمقوں کی محفلوں میں بولتا نہیں

پانی ہے وہ میں اس کو نہیں مانتا لہو
احساس بن کے جو رگوں میں دوڑتا نہیں

اس تیرنے کے فن سے تو واقف ہوں خوب میں
لیکن بھنور میں تنہا اسے چھوڑتا نہیں

کر دے جو ایک بار محبت کو مسترد
اس بے وفا کو دل سے کبھی سوچتا نہیں

درس و خطاب و وعظ و نصیحت کو کیا کریں
کانوں کے رستے دل میں جو رس گھولتا نہیں

خالد ہراساں اتنا ہوں میں اس جدائی سے
پتا بھی ایک شاخ سے میں توڑتا نہیں

اویس خالد

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button