آشفتہ چنگیزیاردو شاعریاردو نظم

واپسی

آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو نظم

واپسی

اذیت اور اس سکوں

دونوں کو ہی دل کھول کے میں نے لٹایا ہے

ہزاروں بار ایسا بھی ہوا ہے

دوستوں کی رہنمائی میں

پھرا ہوں مارا مارا

شہر کی آباد سڑکوں پر

کبھی ویران گلیوں میں

کبھی صحراؤں کی بھی خاک چھانی ہے

مگر اس بار جانے کیا ہوا مجھ کو

نمائش کی دکانوں میں

سجا کر خود کو گھر واپس چلا آیا

ابھی دروازہ میں نے کھٹکھٹایا تھا

کہ گھر والوں نے کینہ توز نظروں سے مجھے دیکھا

جب ان کی آنکھوں میں،

کوئی رمق پہچان کی میں نے نہیں پائی

تو الٹے پیروں واپس لوٹ آیا ہوں

اور اب یہ سوچتا ہوں

دوستوں کی رہنمائی میں

انہیں گلیوں میں صحراؤں میں جا کر

اپنے قدموں کے نشاں ڈھونڈوں

آشفتہ چنگیزی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button