آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزپیر انتظار حسین مصور

جھکے گا ظلم کا پرچم

​تحریر : پیر انتظار حسین مصور

جھکے گا ظلم کا پرچم : سیاسی منافقت اور اقتدار کی بدمستی

جہاں سچ کی بات کرنا مشکل ہو جائے اور ہر بات فائدے اور نقصان کو دیکھ کر کی جائے، وہاں حبیب جالب کا شعر صرف ایک شاعری نہیں رہتا بلکہ ہمارے دور کی سچی کہانی بن جاتا ہے۔ جالب نے جب یہ اشعار کہے تھے:

جُھکے گا ظُلم کا پرچم، یقِین آج بھی ہے مِرے خیال کی دُنیا حَسِین آج بھی ہے

بہت ہَوائیں چلِیں میرا رُخ بدلنے کو مگر نِگاہ میں وُہ سر زَمِین آج بھی ہے

صعوبتوں کے سفر میں ہے کاروانِ حُسینؑ یزید چین سے، مسند نشِین آج بھی ہے

تو شاید ان کے سامنے اپنے دور کے حکمران اور ان کی سختی تھی، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بھی حالات کچھ الگ نہیں ہیں۔ وقت بدل گیا، حکمرانوں کے نام اور چہرے بدل گئے، بڑے بڑے نعرے بدل گئے، لیکن ہماری سیاسی جماعتوں کا رویہ اور ان کی منافقت وہی پرانی ہے۔ جب تک ہماری سیاسی جماعتیں اقتدار سے دور ہوتی ہیں، ان کے لیڈر مظلوم بن کر باتیں کرتے ہیں۔ وہ غریبوں کے حقوق، آئین کی بالادستی، اور بولنے کی آزادی کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی ان کو حکومت اور اقتدار کی کرسی ملتی ہے، وہی لوگ اپنے سارے پرانے وعدے بھول جاتے ہیں اور وہی کام کرنے لگتے ہیں جن کی وہ کل تک مخالفت کر رہے تھے۔

ہمارے سیاسی نظام کا سب سے بڑا المیہ یہی دوہرا معیار ہے۔ اپوزیشن میں بیٹھ کر جو سیاسی لیڈر سڑکوں پر آ کر مظلومیت کے نعرے لگاتے ہیں اور حکومت کو کوستے ہیں، اقتدار میں آتے ہی وہ اپنے مخالفین کی زبان بند کرنے کے نئے نئے راستے تلاش کرنے لگتے ہیں۔ جو جماعتیں کل تک غریبوں، روزگار اور انصاف کی باتیں کرتے نہیں تھکتی تھیں، وہ حکومت میں آتے ہی عوام پر نئے ٹیکس اور سختیوں کے تجربے شروع کر دیتی ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ہماری سیاسی جماعتوں کا اصول صرف یہ ہے کہ جو بات ان کے فائدے میں ہو وہ سچ ہے، اور ظلم صرف وہ ہے جو ان کی اپنی ذات یا ان کی پارٹی پر ہو۔

اس سیاسی منافقت نے ہمارے معاشرے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ عوام جن لیڈروں کو اپنا ہیرو سمجھ کر ووٹ دیتے ہیں اور ان کے لیے جلوسوں میں دھکے کھاتے ہیں، وہی لیڈر حکومت میں جا کر اپنے ہی لوگوں کے مسائل سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ جو جماعتیں بدعنوانی، مہنگائی اور ناانصافی ختم کرنے کے لمبے چوڑے وعدے کر کے اقتدار میں آتی ہیں، وہ حکومت ملتے ہی اپنے فائدے سوچنے لگتی ہیں۔ اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ مسئلہ صرف حکومت یا نظام کا نہیں ہے، بلکہ ان لیڈروں کی نیت اور سوچ کا ہے جو اقتدار کو صرف اپنے اور اپنی پارٹی کے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اگر ہم غور سے دیکھیں تو حکومت اور اپوزیشن دونوں کے رویوں میں بڑا تضاد نظر آتا ہے۔ جو قدم ایک سیاسی جماعت کے لیے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے "ظلم” اور "سیاسی انتقام” کہلاتا ہے، وہی قدم حکومت میں آ کر ان کے نزدیک "قانون کی حکمرانی” بن جاتا ہے۔ جن باتوں اور پابندیوں کو وہ کل تک جمہوریت کے خلاف کہتے تھے، آج اقتدار میں بیٹھ کر انہی باتوں کو "ملکی مفاد” کا نام دے کر درست قرار دیتے ہیں۔ اس منافقت نے عام آدمی کو سخت مایوس کیا ہے اور لوگوں کا سیاست اور جمہوریت سے اعتبار ہی اٹھ گیا ہے۔

اقتدار کے نشے اور عارضی فائدوں کی کھیل میں ہمارے حکمران یہ بھول جاتے ہیں کہ وقت اور تاریخ ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ جب حکومتیں عوام کا اعتماد کھو دیتی ہیں اور صرف نعروں اور اشتہاروں کے ذریعے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کرتی ہیں، تو آخر میں ان کو رسوائی کا سامنا ہی کرنا پڑتا ہے۔ حبیب جالب کا یہ کلام کسی ایک دور کا قصہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہر اس دور کی کہانی ہے جہاں ظلم اور ناانصافی ہو۔ یہ شعر ہمیں یہ امید دیتے ہیں کہ جھوٹ اور منافقت چاہے کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو جائے، سچ اور انصاف کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ سچ بولنے والوں کو ہر دور میں مشکلوں اور سخت راستوں سے گزرنا پڑا ہے۔ اپنوں اور غیروں کی منافقت کے باوجود، تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ انہی لوگوں کا نام عزت سے لکھا جاتا ہے جو بغیر کسی ڈر یا لالچ کے سچ کے ساتھ کھڑے رہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بحیثیت قوم ان تمام سیاسی لیڈروں کے پرفریب نعروں، جھوٹے وعدوں اور اشتہاری دعوؤں سے باہر نکلیں۔ ہمیں ان کے زبانی کلامی نعروں کی بجائے ان کے عملی کاموں اور ماضی کے فیصلوں کو دیکھنا ہوگا۔ جب تک ہمارے ملک کے لوگ شخصیت پرستی اور پارٹی بازی سے اوپر اٹھ کر سچ اور انصاف کا ساتھ نہیں دیں گے، تب تک حکومتیں اور چہرے تو بدلتے رہیں گے لیکن عام آدمی کی حالت اور اس ملک کی تقدیر نہیں بدلے گی۔

پیر انتظار حسین مصور

post bar salamurdu

پیر انتظار حسین مصور

السلام علیکم! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں پیر انتظار حسین مصور، ایک لکھاری کی حیثیت سے گزشتہ کچھ عرصے سے اردو ادب کے فروغ اور معاشرتی مسائل پر قلم فرسائی کر رہا ہوں۔ میرا کام باقاعدگی سے "ہم سب" اور "ڈیلی اردو کالمز" سمیت مختلف ادبی فورمز پر شائع ہوتا رہا ہے، جبکہ میں اپنا ذاتی بلاگ بھی باقاعدگی سے لکھتا ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button