آپ کا سلاماردو غزلیاتشاہد عباس ملکشعر و شاعری

قربتوں میں وہ تسَلسُل نہیں ہونے دیتے

شاہد عباس ملک کی ایک اردو غزل

قربتوں میں وہ تسَلسُل نہیں ہونے دیتے
یعنی وہ مجھ کو مکمَل نہیں ہونے دیتے

دل میں آتے ہیں ذرا دیر چلے جاتے ہیں
خود کو پابندِ سلاسِل نہیں ہونے دیتے

درد بڑھتا ہے تو فوراً ہی دوا کرتے ہیں
درد کو درد کے قابِل نہیں ہونے دیتے

روز دروازہ بدل لیتے ہیں کاشانے کا
ایک ہی در کو مقفَّل نہیں ہونے دیتے

عشق کرتے ہیں تو مشروط سا وہ کرتے ہیں
عشق میں خود کو وہ پاگَل نہیں ہونے دیتے

وہ دبے پاؤں اتر آتے ہیں دل میں میرے
کوئی آہٹ کوئی ہلچل نہیں ہونے دیتے

ان کو آتا ہے ہُنر کیسا نہ جانے شاہد
پتھروں کو بھی وہ سنگدِل نہیں ہونے دیتے

شاہد عباس ملک

شاہد عباس ملک

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر خوشاب کے گاوں پدھراڑ سے تعلق ہے اور پیشہ کے اعتبار سے انجینئر ہیں شاعری کا شوق سکول کے دور سے ہی ہے اور سکول دور سے ہی شاعری کر رہے ہیں نعتیہ کلام لکھتے بھی ہین اور نعت پڑھنے کا شوق بھی رکھتے ہیں اردو ادب سے لگاو بچپن سے ہے ۔ شاعروں میں علامہ اقبال، ناصر کاظمی داغ دہلوی اور غالب بہت پسند ہیں ۔ ایک معروف ادبی تنظیم "عالمی ادب اکادمی " سے وابستہ ہیں اور تحصیل کوآرڈینیٹر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور ادب کی خدمت میں اپنا کردار بخوبی ادا کر رہے ہیں دو کتب اشاعت کے مراحل میں ہیں ایک نعتیہ کلام پر مبنی جو ربیع الاول میں آئے گی اور ایک عزلیات پر مشتمل ہے جو اسی سال دسمبر میں شائع ہوگی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button