- Advertisement -

جب اپنی اپنی محرومی سے ڈر جاتے تھے

عباس تابش کی ایک اردو غزل

جب اپنی اپنی محرومی سے ڈر جاتے تھے ہم دونوں
کسی گہری اُداسی میں اتر جاتے تھے ہم دونوں

بہارِ شوق میں بادِ خزاں آثار چلتی تھی
شگفتِ گل کے موسم میں بکھر جاتے تھے ہم دونوں

تمہارے شہر کے چاروں طرف پانی ہی پانی تھا
وہی اک جھیل ہوتی تھی جدھر جاتے تھے ہم دونوں

سنہری مچھلیاں، مہتاب اور کشتی کے اندر ہم
یہ منظر گم تھا پھر بھی جھیل پر جاتے تھے ہم دونوں

زمستاں کی ہواؤں میں فقط جسموں کے خیمے تھے
دبک جاتے تھے ان میں جب ٹھٹھر جاتے تھے ہم دونوں

عجب اک بے یقینی میں گزرتی تھی کنارے پر
ٹھہرتے تھے نہ اٹھ کے اپنے گھر جاتے تھے ہم دونوں

بہت سا وقت لگ جاتا تھا خود کو جمع کرنے میں
ذرا سی بات پر کتنا بکھر جاتے تھے ہم دونوں

کہیں جانا نہیں تھا اس لئے آہستہ رو تھے ہم
ذرا سا فاصلہ کر کے ٹھہر جاتے تھے ہم دونوں

زمانہ دیکھتا رہتا تھا ہم کو چور آنکھوں سے
نہ جانے کن خیالوں میں گزر جاتے تھے ہم دونوں

بس اتنا یاد ہے پہلی محبت کا سفر تھا وہ
بس اتنا یاد ہے شام و سحر جاتے تھے ہم دونوں

حدودِ خواب سے آگے ہمارا کون رہتا تھا
حدودِ خواب سے آگے کدھر جاتے تھے ہم دونوں

عباس تابش

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
جاوید مہدی کی ایک اردو غزل